خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 79 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 79

خطبات محمود سال ۱۹۳۸ء بڑے بڑے لوگ ہمارے ساتھ ہیں۔حتی کہ ایک دوست حکیم ابوطاہر صاحب نے جو تھوڑا ہی عرصہ ہو ا فوت ہو گئے ہیں اور جماعت احمدیہ کلکتہ کے امیر تھے اور اُس زمانہ میں یہاں آئے ہوئے تھے ، سخت گھبراہٹ میں مجھے ایک خط لکھا کہ خدا کے واسطے ان لوگوں کے اخراج کی از جماعت کا اعلان نہ کریں۔میں نے بہت ہی معتبر ذریعہ سے سُنا ہے ( یہ معتبر ذرائع وہ خود بہائی خیالات کے دو تین آدمی ہی تھے جنہوں نے ان سے مل کر کہا اور انہوں نے بوجہ نا واقفی کے انہیں معتبر سمجھا ) کہ جماعت کے کئی بڑے بڑے لوگ ان کے ساتھ ہی جماعت سے اخراج کا اعلان کرنے کو تیار ہیں بلکہ مجھے معتبر ذریعہ سے معلوم ہو ا ہے کہ حافظ روشن علی صاحب بھی اُسی وقت کہیں گے کہ میں بھی بہائی ہوں اور ان ہی کے ساتھ جاتا ہوں۔میں نے ان کو جواب میں لکھا کہ حق کے معاملہ میں کسی سے ڈرنے کی کوئی وجہ نہیں۔اگر ساری جماعت کے لوگ بھی کہہ دیں کہ ہم جاتے ہیں تو میں کہوں گا کہ بے شک جاؤ۔میرا اور آپ کا تعلق محبت کا ہی تعلق تھا اور اگر وہ قائم نہیں رہا تو جاؤ مگر ان کی یہ سب باتیں بالکل غلط ثابت ہوئیں۔میں نے حافظ صاحب مرحوم سے اس بات کا ذکر بھی نہیں کیا تھا۔مگر انہوں نے بڑے زور سے ان لوگوں کو خارج کرنے کی حمایت کی اور بعد میں بھی بڑی مضبوطی کے ساتھ اس فتنہ کا مقابلہ کرتے رہے۔اس کی فتنہ سے پہلے پیغامی فتنہ شروع ہوا تھا۔اس میں بھی بعینہ یہی قصہ گزرا تھا۔یہ لوگ بھی جب الگ ہوئے تو یہی کہتے تھے کہ سب جماعت ہمارے ساتھ ہے اور بیعت کرنے والے تو چند ایک تنخواہ دار ملازم ہی ہیں یا قادیان کے دست نگر لوگ اور ایسی باتوں سے ان کی غرض یہی تھی کہ جماعت میں تفرقہ ڈال دیں اور جب یہ لوگ اس قسم کا پرو پیگنڈا کر رہے تھے ان کی اصلی حالت کی یہ تھی کہ ماسٹر عبد الحق صاحب مرحوم نے جو پہلے ان کے ساتھ تھے مگر بعد میں بیعت کر لی تھی ، سنایا کہ میں اور مولوی صدر الدین صاحب اور ایک تیسرا شخص لالٹین لے کر تمام رات پھرتے رہے کہ اگر چالیس آدمی ہمیں میسر آجائیں تو ایک اور خلیفہ بنادیں تا جماعت میں تفرقہ تو پیدا ہو جائے۔مگر ہم دس بارہ سے زیادہ آدمیوں کو اس کیلئے آمادہ نہ کر سکے بلکہ ہمارے اپنے آدمیوں نے بھی یہی کہا کہ یہ کیا پاکھنڈ بنایا جا رہا ہے۔اب مصری صاحب کا فتنہ ہے۔یہ بھی کہتے ہیں کہ جماعت کے بہت سے لوگ تو دہریہ