خطبات محمود (جلد 19) — Page 789
خطبات محمود ۷۸۹ سال ۱۹۳۸ء بھیجنا پڑتا۔کیا یہ کم آرام کی بات ہے، بے شک ان کا روپیہ یہاں خزانہ میں جمع نہیں ہوتا اور جو لوگ کامیابی کا اندازہ روپیہ سے کرنے کے عادی ہوئے ہیں وہ یہی خیال کرتے ہیں کہ کوئی کام کی نہیں ہو رہا مگر انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ وہ جماعتیں اپنے اپنے طور پر کافی خرچ کر رہی ہیں اور بعض جماعتوں کے بجٹ دس دس اور پندرہ پندرہ ہزار کے ہوتے ہیں۔اگر وہ ساری رقمیں یہاں آئیں تو ہمارا بجٹ دُگنا نہیں تو ڈیوڑھا تو ضرور ہو جائے گا مگر وہاں بھی ایک لڑائی کی جاری ہے اور ایسی صورت میں ہمارا وہاں سے روپیہ منگوانا بہت بڑی حماقت ہوگی۔گوکئی نادان کی وہاں سے روپیہ نہ آنے کی وجہ سے سمجھتے ہیں کہ کوئی کام نہیں ہو رہا حالانکہ ان کے بجٹ ہزاروں کے ہوتے ہیں۔پھر تحریک جدید میں انہوں نے بھی پورے شوق سے حصہ لیا ہے اور بعض ممالک سے ڈیڑھ ڈیڑھ اور دو دو ہزار روپے بھی آتے رہے ہیں۔پس میں اپنی جماعت کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ عظیم الشان کام ہمارے سامنے ہے۔اگر وہ اس امر کے منتظر ہیں کہ تھپڑ پڑے تو اٹھیں۔تو یا درکھیں کہ اللہ تعالیٰ کے پاس تھپڑوں کی کمی نہیں مگر یہ کوئی اچھی بات نہیں کہ انسان تھپڑ کھا کر بیدار ہو۔یہ نمونہ تو ہم نے دکھا دیا کہ کوئی ضرب لگائے تو بیدار ہو کر ہم ایسا مقابلہ کرتے ہیں کہ اس کی مثال نہیں ملتی اور اب تحریک جدید کے دور ثانی میں ہم نے یہ دکھانا ہے کہ خدا تعالیٰ کی محبت میں بغیر مار کھائے بھی ہم ویسی ہی قربانی کرنے کو تیار ہیں اور اس دور کی کامیابی پر اس سوال کا فیصلہ ہوگا کہ احرار کی مار کی ہمارے دلوں میں زیاد ہ عظمت ہے یا خدا تعالیٰ کی محبت اور اس سوال کا آپ جو بھی جواب دیں گے اس سے آپ کی قیمت کا اندازہ ہوگا۔دور ثانی ایسی حالت میں شروع کیا گیا ہے کہ جب بظا ہر سامنے کوئی خطرہ نہ تھا اور یہ اس لئے ہوا کہ تا اللہ تعالیٰ ہمیں اس پر فخر کا موقع دے اور ہم بتا سکیں کہ جس طرح اگر دشمن ہمیں ذلیل کرنا چاہے تو ہم ایسی قربانی کرتے ہیں جس سے وہ نا کام ہو جائے اسی طرح اگر خدا تعالیٰ کی محبت میں بھی اگر ہمیں قربانی کرنا پڑے تو پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں۔مجھے افسوس ہے کہ جماعت کے ایک حصہ نے دور ثانی کی اہمیت کو نہیں سمجھا۔دور اول میں تو دشمن گھونسے تانے ہمارے سروں پر کھڑا تھا اُس وقت ہم میں جو بیداری پیدا ہوئی وہ اپنی جان بچانے کیلئے تھی مگر آج کوئی دشمن سامنے نہیں کھڑا اور اس طرح حملہ آور