خطبات محمود (جلد 19) — Page 777
خطبات محمود سال ۱۹۳۸ء اسلام کے وہ احکام جن کے متعلق مسلمان بھی معذرتیں پیش کرتے اور کہتے تھے کہ یہ خاص کی اوقات کیلئے ہیں نہایت جرات کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کئے اور ابھی زیادہ دن نہیں کی گزرے تھے کہ یورپ میں زلزلے آنے لگے اور بڑے بڑے فلاسفر اس طرف آنے پر مجبور ہو گئے اور وہ سمجھنے لگے کہ نئے مسائل ان کو تباہی کی طرف لے جا رہے ہیں۔شراب اور سود میں حد بندیاں ہونے لگیں ، طلاق کے مسئلہ میں آزادی ہوئی اور کثرت ازدواج میں جو سختی سے کام لیا جارہا تھا اس میں نرمی کی تحریک یورپ کے لوگوں میں شروع ہوگئی ، عریانی کے معاملہ میں بھی آزادی کی بڑھتی ہوئی رو میں کمی آنے لگی۔ان مسائل میں می اسلام کی تعلیم کو پہلے حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا تھا اور اسے اولڈ فیشن OLD FASHION) اور پرانے زمانہ کی تعلیم کہا جاتا تھا مگر اسکے بعد یورپ میں بھی جو زلزلے آئے اور جو حرکتیں ہوئیں انہوں نے نئے قوانین کی عمارتوں کو گرا کر لوگوں کو پھر اس تعلیم کی طرف آنے پر مجبور کیا جسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پرانی تعلیم بنا کر پیش کیا تھا۔طلاق کے بارہ میں وسعت پیدا ہو رہی ہے یورپ میں ایک زبر دست جماعت پیدا ہو رہی ہے جو یہ کہہ رہی ہے کہ کثرت ازدواج میں آزادی ہونی چاہئے ، سود کے بارہ میں حد بندیوں کی حامی بھی زبر دست جماعت پیدا ہوگئی ہے، جن میں سے ہٹلر اور جرمن کی یونیورسٹیوں کے پروفیسر پیش پیش ہیں۔چند سال ہوئے برلن کی یونیورسٹیوں کے بعض پر فیسروں نے اپنی چھٹیاں اس لئے وقف کی تھیں کی کہ لوگوں کو جا کر سود کی برائیوں سے آگاہ کریں۔پہلے کون کہہ سکتا تھا کہ یورپ جو ان بیماریوں کا پیدا کرنے والا ہے وہی ان کے علاج کی طرف متوجہ ہو گا۔یہ تغیرات آج سب لوگوں کو نظر نہیں آتے جو مجھے آتے ہیں۔بے شک یورپ ابھی شراب کو چھوڑ نہیں سکا ، طلاق میں بھی اسلامی تعلیم کو قائم نہیں کر سکا اور یہی حال دوسرے مسائل کا ہے مگر دیکھنا یہ ہے کہ ان کا مزاج کی کس طرف مائل ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ آ رہا ہے اس طرف احرار یورپ کا مزاج اور اصل چیز یہی ہے کہ یورپ کا مزاج اس طرف آرہا ہے اور جب اس طرف میلان ہو رہا ہے تو ایک نہ ایک دن ان احکام پر عمل بھی ہو کر رہے گا۔تمام قوم کو ایک ہی دن میں کسی بات پر کی