خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 767 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 767

خطبات محمود سال ۱۹۳۸ پیٹ میں چلا جائے گا۔اگر پاؤ پڑا ہوا ہوگا تو پاؤ ہی کھا جائے گا اور اگر ڈیڑھ پاؤ پڑا ہو گا تو ڈیڑھ پاؤ کھا جائے گا لیکن دوسرے شخص کے سامنے اگر دوسیر بھی کھانا پڑا ہوا ہوگا تو وہ چند لقموں سے زیادہ کھانا نہیں کھا سکے گا۔اگر زیادہ کھائے گا تو اسے لئے آجائے گی اور پہلا کھانا بھی اس کے اندر سے نکل جائے گا۔تو حکمتوں کے جاننے کے ساتھ بشاشت اور رغبت پیدا ہوتی اور اس طرح روحانی لحاظ سے ایسی بھوک پیدا ہو جاتی ہے جس سے معنوی طور پر انسان کا ظرف بڑا ہو جاتا ہے۔جس طرح انسان کو جتنی زیادہ بھوک لگتی چلی جاتی ہے اُتنا ہی اُس کا معدہ بڑھتا چلا جاتا ہے اسی طرح جن لوگوں کے اندر بشاشت ایمانی پیدا ہو جاتی ہے اُن کا دل وسیع ہو جاتا ہے اور اس میں ربڑ کی سی لچک پیدا ہو جاتی ہے۔اور جتنا زیادہ اُسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقام ملتا جاتا ہے اُتنا زیادہ اُس کا دل پھیلتا چلا جاتا اور اللہ تعالیٰ کے انوار کو جذب کرتا چلا جاتا ہے۔اور جڑ کو پکڑ لینا ایسا ہی ہے جیسے کسی تھیلی میں کوئی چیز ڈال کر اوپر سے تسمہ باندھ لیا جائے۔اس طرح نیکی میں دوام پیدا ہو جاتا ہے اور اس دوام کی وجہ سے خدا تعالیٰ کے ساتھ انسان ایسا تعلق پیدا کر لیتا ہے کہ پھر اس کا قدم کبھی لڑکھڑاتا نہیں۔پس ہمارے لئے ضروری ہے کہ جب ہم دین کی طرف توجہ کریں تو ان مسئلوں کو اچھی طرح سمجھ لیں کہ جب تک بشاشت ایمانی ہمیں حاصل نہیں اور جب تک ہم احکام کی جڑ کو نہیں پکڑتے اُس وقت تک نہ نیکیوں میں دوام پیدا ہوسکتا ہے اور نہ قربانیوں کے نیک نتائج پیدا ہو سکتے ہیں۔بیشک کچھ فضل ضرور نازل ہوں گے مگر وہ اتنے اہم نہیں ہونگے کیونکہ خدا تعالیٰ تو کج انعامات دے گا لیکن ظرف چھوٹا ہوگا اور اس وجہ سے انعامات سے انسان پوری طرح فائدہ نہیں اٹھا سکے گا۔جیسے اگر کوئی میزبان مہمان کے سامنے کھا نا ر کھے تو اب یہ مہمان کا کام ہے کہ وہ کھانا کھائے لیکن اگر اسے پیٹ درد شروع ہو جائے یا متلی ہو جائے تو وہ کس طرح کھا سکتا ہے۔پس بے شک جب ہم نمازیں پڑھتے ہیں، جب ہم روزے رکھتے ہیں، جب ہم زکو تیں دیتے ہیں ، جب ہم تو فیق ملنے پر حج کرتے ہیں تو خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کے فضل بھی نازل ہوتے ہیں مگر چونکہ دل چھوٹا ہوتا ہے اس لئے وہ فضل اِدھر اُدھر بہہ جاتے ہیں یعنی اور لوگ اس سے فائدہ اٹھا لیتے ہیں مگر ہمارے اپنے نفس فائدہ اٹھانے سے محروم رہتے ہیں لیکن جب