خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 736 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 736

خطبات محمود سال ۱۹۳۸ء سے وابستگی پیدا ہو جاتی ہے کیونکہ اسے خیال ہوتا ہے کہ اس زبان کی آواز پہلے بھی کبھی میرے کان میں پڑ چکی ہے۔اس کے علاوہ دوسری حکمت بچہ کے کان میں اذان کہنے کی یہ ہے کہ ماں باپ یہ سمجھ لیں کہ بچہ کی تربیت کا زمانہ شروع ہو گیا ہے۔کئی ماں باپ ہیں جو سمجھتے ہیں کہ بچہ بڑا ہو کر تربیت حاصل کرلے گا حالانکہ وہ سخت غلطی پر ہوتے ہیں۔جب بچے تعلیم حاصل کر لیتے ہیں تو کئی لڑکے اپنے ان پڑھ ماں باپ کو پاگل سمجھنے لگتے ہیں اور بسا اوقات ان کی والدہ اگر کوئی بات کہے تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ اماں تم نہیں جانتیں کہ یہ علمی بات ہے، پس بچے کی تربیت کا زمانہ اس کا بچپن ہی ہے ، حضرت امام شافعی نے 9 سال کی عمر میں تمام دینی تعلیم کی تکمیل کر لی تھی۔پس اذان یہ بتاتی ہے کہ تربیت کا کام بچہ کی پیدائش سے ہی شروع ہو جاتا ہے اور حقیقت میں وہی وقت ہوتا ہے جب ماں باپ اپنے خیالات کا اثر بچہ پر ڈال سکتے ہیں۔غرض پہلے دور میں جبکہ بچہ ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے خدا تعالیٰ خود بچہ کی تربیت کرتا ہے مگر دوسرے دور میں اسے تربیت کے لئے انسان کے سپرد کیا جاتا ہے۔یہی دور قوموں پر بھی آتے ہیں جب خدا تعالیٰ کا کوئی مامور دنیا می میں آتا ہے تو اس وقت اس کی قوم کا ابتدائی دور بچہ کے اس پہلے دور سے مشابہت رکھتا ہے۔جبکہ وہ ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے اس وقت خدا تعالیٰ خود تمام ضرورتوں کو پورا کرتا ہے، معجزات اور نشانات کے ذریعہ قوم کی تربیت ہوتی ہے اور وہ بمنزلہ ان غذاؤں کے ہوتے ہیں جو ماں کے پیٹ میں بچہ کو پہنچتی ہیں۔بے شک مامورانِ الہی بھی ان کی تعلیم و تربیت کرتے ہیں کی لیکن ان کا اس میں اتنا ہی دخل ہوتا ہے جتنا ماں کی خوراک کا خیال اس وقت رکھا جاتا ہے جب بچہ ماں کے پیٹ میں ہو۔خدا بھی اپنے رسول کی خود تربیت کرتا ہے اور اس کے ذریعہ امت کو خوراک مل جاتی ہے۔پھر جسمانی تربیت میں دوسرا دور جس طرح اس وقت شروع ہوتا ہے جب بچہ پیدا ہواسی طرح قوموں پر ان کی تربیت کا دوسرا دور جب نبی کی وفات کے بعد آتا ہے تو ضروری ہوتا ہے کہ کمزور لوگوں کی ایک نظام کے ماتحت تربیت کی جائے۔جس طرح بچہ کے پہلے دور پر قیاس کر کے کہ جب خدا تعالیٰ اسے پہلے دور میں خود رزق دیتا رہا ہے کسی نادان کا یہ خیال کر لینا کہ دوسرے دور میں بھی خدا تعالیٰ اس طریق پر اس کے رزق کا انتظام کرے گا اور اس کی کی