خطبات محمود (جلد 19) — Page 726
خطبات محمود سال ۱۹۳۸ء ان پر جرمن حکمران ہوں اور اسی طرح کیا یہ سب ممالک اس بات کو مان لیں گے کہ ان پر ی امریکہ کی حکومت ہو۔ہر قوم اپنا قومی غرور رکھتی ہے اور خیال کرتی ہے کہ میں دوسرے سے برتر ہوں تو کیا اس وہم کی بناء پر اسے دوسروں پر حکومت کا حق حاصل ہو جاتا ہے۔اگر تو سوال یہ ہوتا کہ افریقہ کے لوگ جرمنی یا انگلستان پر حکومت کریں تب تو بے شک یہ کہا جاسکتا تھا کہ وہ جاہل ہیں لیکن ان کو اپنے ملک میں اور اپنے جیسوں پر حکومت کرنے دینے میں کوئی حرج نہیں تھا کیونکہ جن پر حکومت کی جاتی ہے وہ بھی تو کوئی تعلیم یافتہ نہیں بلکہ جاہل ہی ہیں۔جب تعلیم یافتہ اقوام کو اپنے ملک پر حکومت کا حق ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ جاہلوں کو اپنے ملک میں حکومت کے نا قابل قرار دیا جائے۔کیا یہ کبھی ہوتا ہے کہ جو حقوق عورتوں کو حاصل ہیں ان سے زمینداروں کو اس بناء پر محروم کر دیا جائے کہ وہ جاہل ہیں قانون اور شریعت ہر خاوند اور ہر بیوی کو یکساں حقوق دیتے ہیں۔ایک مزدور کی بیوی کو بھی وہی حقوق حاصل ہیں جو ایک عالم یا جرنیل یا بادشاہ کی بیوی کو دیئے جاتے ہیں اور اسی طرح جاہل خاوند اور عالم خاوند کو اپنی اپنی بیوی پر یکساں حقوق دیئے جاتے ہیں کیونکہ اگر زمیندار ان پڑھ ہے تو اس نے معاملہ بھی تو اپنی ان پڑھ بیوی کے ساتھ ہی کرنا ہے۔اسی طرح افریقہ کے لوگ جاہل ہی سہی مگر کیا وہ اپنے اوپر حکومت کے بھی کی اہل نہیں۔آخر جب یورپ کے لوگ وہاں نہیں پہنچے تھے تو وہ اپنا گزارہ کرتے ہی تھے وہی صورت اب بھی ہو سکتی تھی۔کسی دوسری قوم کو کیا حق ہے کہ کسی دوسرے ملک میں جا کر بزور قوت نو آبادیاں قائم کرے۔تو یہ نہایت ظالمانہ فعل تھا جو یورپ نے غرور کے نشہ میں کیا اس نے بعض اقوام کو تو آدمیوں میں شمار نہیں کیا بلکہ جانور سمجھ کر آپس میں بانٹ لیا بعض کو آدمی تو قرار دیا مگر یتیم جن کے لئے مربیوں کی ضرورت تھی جو ان کو کھلائیں پلائیں اور ان کی جائدادوں کا انتظام کریں۔یہ تو ایشیا کے ساتھ سلوک ہوا لیکن یورپ والوں کو آدمی سمجھ کر حقوق دے دیئے گئے اور اس طرح عملاً اس اصول کی خلاف ورزی ہوئی جو مسٹر ولسن نے صلح کے لئے تجویز کیا تھا کی اور اسی کے نتیجہ میں جرمنی کا کچھ علاقہ چھین کر زیکو سلواکیہ کے ساتھ ملا دیا گیا۔اس حکومت کے بنانے میں دراصل فرانسیسیوں کا دخل تھا۔وہ یہ سمجھتے تھے کہ جرمنی ہمارا پرانا دشمن ہے اس لئے