خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 682 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 682

خطبات محمود ۶۸۲ سال ۱۹۳۸ء بیشک حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ دولت مند تھے مگر آپ کا خاندان کوئی بڑا خاندان نہیں تھا صرف ایک عام شریف قریشی خاندان تھا اور کام آپ کا تجارت تھا۔مال و اسباب ارد گرد کے گاؤں میں لے جاتے اور پھیری کے طور پر بیچ دیتے اور چونکہ آپ ذہین اور ہوشیار تھے اس لئے اُن کی تجارت میں برکت تھی اور وہ کافی روپیہ کما لیتے تھے۔پھر جب اللہ تعالی نے ان کو اسلام نصیب کیا تو اُس تاجر کے دل میں وہ جرات اور بہادری پیدا ہوگئی جو بڑے بڑے فوجیوں کے دلوں میں بھی نہیں ہوتی۔ایک دفعہ صحابہ کی مجلس میں کسی نے کہا کہ ابو بکر لڑنے والے آدمی نہیں تھے۔خبر نہیں جنگوں کی میں ان کا کیا حال ہوتا ہو گا۔اس پر ایک صحابی کہنے لگے ہم میں سے سب سے زیادہ بہادر وہ شخص سمجھا جاتا تھا جو جنگ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے۔اس لئے کہ دشمن کا سارا حملہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ہوتا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ اگر ہم نے ان کو مار دیا تو باقی مسلمانوں کی ہمتیں پست ہو جائیں گی اور ان کو ختم کرنا کوئی زیادہ مشکل نہیں رہے گا اور ہمیشہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پہرے پر حضرت ابو بکر ہی کھڑے ہوتے تھے۔^ قربانی کا یہ حال تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں ایک دفعہ ان کے بڑے بیٹے نے جو بعد میں مسلمان ہوئے اور جو بدریا اُحد کی جنگ میں ( مجھے صحیح یاد نہیں ) کفار کی طرف سے لڑ رہے تھے۔کھانا کھاتے ہوئے باتوں باتوں میں ذکر کیا کہ ابا جان اُس جنگ میں جب فلاں جگہ سے آپ گزرے تھے تو میں ایک پتھر کے پیچھے چھپ کر کھڑا تھا اور میں اگر چاہتا تو آپ کو مار دیتا مگر میں نے کہا باپ کو تو نہیں مارنا۔حضرت ابو بکر نے جواب دیا کہ خدا نے تجھے ایمان نصیب کرنا تھا اس لئے تو بچ گیا۔خدا کی قسم اگر میں تجھے دیکھ لیتا تو ضرور مار ڈالتا۔شے جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے ہیں تو اُس وقت سارا عرب مرتد ہو گیا اور حضرت عمر اور حضرت علیؓ جیسے بہادر انسان بھی اس فتنہ کو دیکھ کر گھبرا گئے۔وفات کے قریب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر رومی علاقہ پر حملہ کرنے کے لئے تیار کیا تھا اور اسامہ کو اس کا ج افسر مقرر کیا تھا مگر ابھی وہ لشکر روانہ نہیں ہوا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوگئی۔آپ کی وفات پر جب قریباً سارا عرب مرتد ہو گیا تو صحا بہ گھبرا گئے اور انہوں نے سوچا کہ اگر