خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 672 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 672

خطبات محمود ۶۷۲ سال ۱۹۳۸ رکھتے ہوئے اس کی طرف جھک جانا اور ماسوی اللہ کا خیال اپنے دل سے بکلی نکال دینا۔گویا کی کامل توحید کے خیالات دل میں پیدا کر لینا اور ما سوئی اللہ کی عبادت ، اس پر انحصار، تو کل اور امید کا دل سے نکال دینا۔اس کا نام عربی زبان میں رکوع ہے۔چنانچہ عربی کا محاورہ ہے کہ فُلانٌ رَكَعَ إِلَى الله۔کہ فلاں شخص ہر ایک دُنیوی چیز کا خیال اپنے دل سے نکال کر خدا تعالی کی طرف جُھک گیا۔پس اس جگہ رکوع سے مراد وہ رکوع نہیں جو نماز میں کیا جاتا ہے۔کیونکہ وہ رکوع ہم علیحدہ نہیں کرتے بلکہ نماز کا ایک حصہ ہوتا ہے۔خالی رکوع اسلام میں کہیں ثابت نہیں اور ی خالی سجدہ اسلام میں شکریہ یا تلاوت قرآن کریم کے سوا عبادت کے طور پر ثابت نہیں ہے بلکہ خالی سجدہ دُعا کے موقع پر کر بھی لیا جاتا ہے۔خالی رکوع کا رسماً بھی اسلام میں کوئی ثبوت نہیں ملتا۔پس رکوع سے مراد یہاں گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر جھک جانا نہیں بلکہ ماسوی اللہ کا خیال اپنے دل سے نکال کر کامل تو حید پر ایمان رکھتے ہوئے خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کرنے کا نام رکوع ہے یہ گویا کی قائمقام ہو جاتا ہے مومن کے لیے ان چیزوں کا جن کو چھوڑنے کا اسے حکم ہے۔رکوع کا لفظ اصل میں اسی لئے استعمال کیا گیا ہے کہ رکوع میں ایک چیز ٹیڑھی ہو جاتی ہے اور سہارا ہمیشہ ٹیڑھا ہو کر لیا جاتا ہے۔جو شخص سیدھا کھڑا ہو گا وہ سہارا نہیں لے سکتا اور اگر وہ سہارا لینا چاہے گا تو اسی وقت لے سکے گا جب وہ ٹیڑھا ہوگا تو و از تحعُوا کے معنی دراصل خدا تعالی پر سہارا لینا کی اور اس کے اوپر جھک جانا ہے۔جھوٹ ، فریب اور منافقت یہ دنیا کے سہارے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ تو بڑے گندے سہارے ہیں ، ان کو چھوڑو اور ان کے قریب بھی مت پھٹکو۔جب دنیا کے سہارے ایک انسان سے لے لئے جائیں تو لازماً وہ کسی اور سہارے کا محتاج ہوگا کیونکہ انسان سخت کمزور اور بے بس ہے۔ایک کمزور انسان جو بیمار بھی ہو کر چ: CRUTCHES) پر چلتا ہے یا کھڑا ہوتا ہے تو دیوار کی ٹیک لگا لیتا ہے یا دم لینے کے لئے کرسی پر جا بیٹھتا ہے یا اگر لیٹے لیٹے سر اُٹھاتا ہے تو کہنی کا سہارا لے لیتا ہے یا گاؤ تکیہ اپنے پیچھے رکھ لیتا ہے تو کمزوری اور کی بیماری کے وقت انسان کو دوسری چیزوں کے سہارے کی ضرورت ہوتی ہے۔چونکہ انسان روحانی عالم میں سخت کمزور ہے اور ہزاروں خفیہ باتیں ایسی پیدا ہو جاتی ہیں جو اس کی ترقی کی راہ میں روک بن کر حائل ہو جاتی ہیں اس لئے اس عالم میں بھی وہ کسی نہ کسی سہارے کا محتاج ہوتا ہے۔