خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 67 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 67

خطبات محمود ۶۷ سال ۱۹۳۸ء چھوٹی چھوٹی باتوں کی طرف لگا دیں تو اسلام کی ترقی کے کام ہم کب کرسکیں گے۔یہی وجہ ہے کہ اسلام نے کھانے اور لباس میں انسان کو سادگی کا حکم دیا تا کہ وہ ان چھوٹی چھوٹی باتوں میں اُلجھنے کی بجائے اہم امور کی طرف توجہ کرے۔پس لباس کے متعلق بھی میں سمجھتا ہوں کہ جو قیود میری طرف سے عائد کی گئی تھیں ان کا قائم رکھنا ضروری ہے۔فیتوں کے متعلق بھی بعض دوستوں نے دریافت کیا ہے کہ آیا اس کے متعلق عورتوں پر جو پابندی عائد کی گئی تھی اُس کا وقت گزر گیا ہے یا ابھی جاری ہے؟ سو اس کے متعلق میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ یہ پابندی بہر حال قائم ہے کیونکہ کپڑے خواہ کتنے گراں ہوں ایک لمبے عرصہ تک کام دے سکتے ہیں۔مگر فیتے چونکہ لباس پر صرف ٹانکے جاتے ہیں اور ہر روز بدلے جاسکتے ہیں اس لئے ہر نئے فیشن کو دیکھ کر عورتیں ریجھ جاتی ہیں اور نیا فیتہ خرید کر پہلے فیتے کی جگہ لگا لیتی ہیں اور میرا تجربہ ہے کہ کپڑوں پر اتنی قیمت نہیں لگتی جتنی کہ ایک فیشن پرست عورت کے فیتوں پر ، کیونکہ فیتے بدلتے چلے جاتے ہیں۔پس مجھے کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ میں اس میں تغییر کروں۔بلکہ میں کہتا ہوں کہ ہمیں آہستہ آہستہ ابھی بعض اور قید میں اس بارہ میں بڑھانی پڑیں گی لیکن چونکہ میں ابھی تک ان امور کے متعلق غور کر رہا ہوں اس لئے ابھی ان کا ذکر نہیں کرتا۔زیورات کے متعلق میں یہ اجازت دے چُکا ہوں کہ شادی بیاہ کے موقع پر نیا زیور بنوانا جائز ہے۔اس کے علاوہ کسی موقع پر نہیں اور در حقیقت زیور اپنی ذات میں کوئی ایسی چیز بھی نہیں کہ شادی کے بعد خاص طور پر بنوایا جائے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں خاص طور پر زیور بنوانے کا کوئی رواج نہیں تھا۔ہاں ٹوٹے پھوٹے زیور کی مرمت کی اجازت میں پہلے بھی دے چکا ہوں اور اب بھی وہ اجازت قائم ہے لیکن ٹوٹے پھوٹے زیور کے بنوانے کے یہ معنے نہیں کہ ایک زیور تر واکر دوسرا زیور بنوا لیا جائے بلکہ مطلب یہ ہے کہ ٹوٹے ہوئے زیور کی محض مرمت کرائی جائے۔مجھے معلوم ہے کہ عورتیں زیورات کو توڑ پھوڑ کر بعض کی دفعہ زیور کی قیمت سے بھی زیادہ اس پر خرچ کر دیتی ہیں۔پس تو ڑنے پھوڑنے کی مرمت سے یہ ہرگز مراد نہیں کہ گلے کا زیور ہاتھ کا بنا لیا جائے اور ہاتھ کا زیور گلے کا بلکہ اس سے مرا دصرف ٹوٹے ہوئے زیور کی معمولی مرمت ہے تا کہ وہ کام دے سکے۔