خطبات محمود (جلد 19) — Page 663
خطبات محمود ۶۶۳ سال ۱۹۳۸ء نے جو روایتیں بیان کی ہیں وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی کے آخری تین چار سال سے تعلق رکھتی ہیں اور یہ بہر حال بعد کا زمانہ ہے پہلا نہیں پھر میں نے پچھلی دفعہ بیان کیا تھا کہ میں نے مفتی محمد صادق صاحب سے دریافت کرایا تو انہوں نے کہا کہ مجھے اس بارہ میں کچھ یاد نہیں مگر اس کے بعد مفتی صاحب کی پرانی ڈائریوں میں سے وہی بات نکل آئی جو میں نے بیان کی تھی۔اور عجیب بات یہ ہے کہ وہ ڈائری آج سے سال دو سال پہلے کی ان کتاب میں چھپی ہوئی موجود ہے۔اور اس کے اندر وہ تاریخ تک محفوظ ہے جس تاریخ کو حضرت مسیح موعود کی علیہ السلام نے یہ بات فرمائی چنانچہ اس کتاب میں لکھا ہے کہ ۷ نومبر ۱۹۰۷ء کو گو یا اپنی وفات سے صرف چھ ماہ پہلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔و جس طرح کہ حضرت عیسی علیہ السلام سے پہلے یوحنا نبی خدا تعالیٰ کی تبلیغ کرتے ہوئے شہید ہوئے تھے۔اسی طرح ہم سے پہلے اسی ملک پنجاب میں سید احمد صاحب تو حید کا وعظ کرتے ہوئے سکھوں کے زمانہ میں شہید ہو گئے۔یہ بھی ایک مماثلت تھی جو خدا تعالیٰ نے پوری کر دی۲۶ یہ وفات سے صرف چھ مہینے پہلے کی بات ہے اور کے نومبر ۱۹۰۷ء کو ایسا فرماتے ہیں۔اس کی کے بعد کا حوالہ تو اس ضمن میں کوئی مل ہی نہیں سکتا۔پھر ایک دوست نے لکھا ہے کہ حقیقۃ الوحی میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایسا ہی تحریر فرمایا ہے۔اور حقیقۃ الوحی بھی حضرت مسیح موعود کی علیہ السلام کی آخری تصانیف میں سے ہے اور ۱۹۰۷ ء میں چھپی ہے۔گویا ایک طرف مفتی محمد صادق صاحب کی ڈائری ہے۔جو ے نومبر ۱۹۰۷ ء کی ہے۔دوسری طرف حقیقۃ الوحی کی شہادت ہے۔جو ۱۹۰۷ ء کی ہے۔تیسری طرف میری روایتیں ہیں جو بہر حال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے آخری زمانہ سے تعلق رکھتی ہے پھر ہمارے سلسلہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بہت زیادہ روایات جمع کی کرنے والے دو شخص ہیں۔مفتی محمد صادق صاحب اور شیخ یعقوب علی صاحب مفتی محمد صادق صاحب کی روایت میں بتا چکا ہوں۔رہے شیخ یعقوب علی صاحب سو میں نے ان کی طرف بھی خط لکھا تھا کی کہ اس بارہ میں آپ کی کیا گواہی ہے۔اس کے جواب میں انہوں نے لکھا ہے کہ آپ میری کی