خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 66 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 66

خطبات محمود ۶۶ سال ۱۹۳۸ بہت سا وقت تو اپنے لباس کی درستی میں ہی لگ جاتا ہے۔درحقیقت اسلام یہ چاہتا ہے کہ ہمارا دماغ اور تمام باتوں سے فارغ ہو اور یا تو وہ خدا کی یاد میں مشغول ہو یا بنی نوع انسان کی بہتری کی تدابیر سوچ رہا ہو۔اور حق بات یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ان باتوں میں ہمہ تن مشغول ہو تو اسے یہ موقع ہی نہیں ملتا کہ وہ لباس کی درستی کی طرف توجہ کرے۔میں نے دیکھا ہے کام کی کثرت کی وجہ سے کئی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ ادھر میں کھانا کھا رہا ہوتا ہوں اور اُدھر اخبار پڑھ رہا ہوتا ہوں۔بیویاں کہتی بھی ہیں کہ اس وقت اخبار نہ پڑھیں کھانا کھا ئیں مگر میں کہتا ہوں میرے پاس اور کوئی وقت نہیں۔پھر کئی دفعہ لوگ میرے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں آپ کے لباس میں یہ نقص ہے، وہ نقص ہے۔مگر میں کہتا ہوں کہ مجھے تو اس بات کا احساس بھی نہیں۔آپ کو معلوم نہیں کہ اس کا کیوں خیال ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ہم نے دیکھا ہے گو مخالف اس پر ہنسی کی اُڑاتے اور یہ کہتے ہیں کہ آپ نَعُوذُ باللہ پاگل تھے مگر واقعہ یہ ہے کہ آپ کئی دفعہ بوٹ ٹیڑھا کی پہن لیتے ، دایاں بوٹ بائیں پاؤں میں اور بایاں بوٹ دائیں پاؤں میں۔وہ نادان نہیں کی جانتے کہ جس کا دماغ اور باتوں کی طرف شدت سے لگا ہوا ہو اُسے ان معمولی باتوں کی طرف توجہ کی فرصت ہی کب مل سکتی ہے۔اسی طرح کئی دفعہ ایسا ہوتا کہ آپ بٹن اوپر نیچے لگا لیتے یعنی اوپر کا بٹن نچلے بٹن کے کاج کی میں اور نیچے کا بٹن اوپر کے بٹن کے کاج میں لگا دیتے۔میرا بھی یہی حال ہے کہ دوسرے کی تیسرے دن بٹن اوپر نیچے ہو جاتے ہیں اور کوئی دوسرا بتا تا ہے تو درستی ہوتی ہے۔گو بوٹ کے متعلق اب تک میرے ساتھ ایسا کبھی واقعہ نہیں ہوا کہ بایاں بوٹ میں نے دائیں پاؤں میں پہن لیا ہو اور دایاں بوٹ بائیں پاؤں میں اور اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ میرے پاؤں پر بھنوری ہے اور ڈاکٹر نے مجھے بچپن سے ہی بوٹ پہننے کی ہدایت کی ہوئی ہے۔اور چونکہ بچپن سے ہی مجھے بوٹ پہننے کی عادت ہے اس لئے ایسا کبھی اتفاق نہیں ہوا۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ تو اکثر ایسا ہوا کہ چلتے چلتے آپ کو ٹھو کر لگتی اور کوئی دوسرا دوست بتا تا کہ حضور نے گر گابی اُلٹی پہنی ہوئی ہے اور آخر آپ نے انگریزی جوتی پہنی بالکل ترک کر دی۔تو انسانی دماغ جب ایک طرف سے فارغ ہو سبھی دوسرا کام کر سکتا ہے۔اگر ہم اپنے دماغ کو ان کی