خطبات محمود (جلد 19) — Page 653
خطبات محمود ۶۵۳ سال ۱۹۳۸ء حالانکہ کوئی انسان بھی بجز اذنِ الہی فوت نہیں ہو سکتا۔چہ جائیکہ اس کے مُرسلوں کو قتل کیا جاسکے یقیناً اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے خاص سامانوں کے ذریعہ اپنے رسولوں کو قتل سے محفوظ رکھتا ہے خواہ مکر کرنے والے ہزار مکر کریں یہ حوالہ بتاتا ہے کہ اس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام صرف یہ بیان فرما رہے ہیں۔کہ اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر کوئی شخص فوت نہیں ہوسکتا۔کجا یہ کہ اس کے رسول اور نبی بغیر اذن کے فوت ہوسکیں سو یہ بالکل درست ہے ہم بھی تسلیم کرتے ہیں کہ اگر حضرت یحییٰ علیہ السلام کے متعلق اللہ تعالیٰ کا یہ فیصلہ ہوتا کہ وہ قتل نہیں ہو سکتے کی تو دنیا کی کوئی طاقت انہیں ہلاک نہ کر سکتی جیسے سلسلہ کے اول اور آخری نبی کے متعلق اللہ تعالی کا یہ فیصلہ ہے اور بڑے سے بڑا دشمن بھی کسی سلسلہ کے پہلے اور پچھلے نبی کو نہیں مار سکتا۔چنا نچہ دیکھ لو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق دشمنوں نے بڑا زور لگایا۔کہ آپ کو قتل کریں۔مگر وہ آپ کو قتل نہ کر سکے۔حضرت عیسی علیہ السلام کے متعلق بڑا زور لگایا۔کہ وہ آپ کو قتل کریں مگر قتل نہ کر سکے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے متعلق بڑا زور لگایا کہ وہ آپ کو قتل کر دیں مگر قتل نہ کر سکے گی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق بڑا زور لگایا کہ وہ آپ کو قتل کریں۔مگر قتل نہ کر سکے۔حضرت نوح علیہ السلام کے متعلق بڑا زور لگایا کہ وہ آپ کو قتل کریں مگر قتل نہ کر سکے۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق دشمنوں نے بڑا زور لگایا کہ وہ آپ کو قتل کریں۔مگر قتل نہ کر سکے۔کیونکہ سلسلہ کا پہلا اور پچھلا نبی قتل نہیں ہوسکتا۔اور اس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا صریح فیصلہ موجود ہے۔یہ امر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس جگہ بیان فرمار ہے ہیں کہ جب عام انسان بھی بغیر اذنِ الہی کے نہیں مر سکتے۔تو رسول اور نبی کس طرح مر سکتے ہیں گویا یہ دلیل بالا ولی ہے جو پیش کی گئی ہے۔ورنہ بغیر اذن کے نہ مرنے میں تو نبی اور غیر نبی سب شامل ہیں۔حتی کہ ابو جہل بھی بغیر اذنِ الہی کے نہیں مرسکتا تھا۔مولوی محمد حسین بٹالوی بھی بغیر اذن الہی کے نہیں مرسکتا تھا اور مولوی ثناء اللہ صاحب امرت سری بھی بغیر اذنِ الہی کے نہیں مر سکتے۔تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دلیل صرف یہ دی ہے کہ جب بغیر اذنِ الہی کے کا فربھی نہیں مر سکتے تو خدا تعالیٰ کے نبی کس طرح مر سکتے ہیں۔گویا اس کے معنے یہ ہیں کہ ہر انسان کی موت کی