خطبات محمود (جلد 19) — Page 652
خطبات محمود ۶۵۲ سال ۱۹۳۸ء وفات پائی لیکن اگر ہم یہ ثبوت تو پیش نہ کریں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم غار ثور سے نکل کر مدینہ پہنچے اور حضرت عیسی علیہ السلام صلیب سے زندہ اتر کر کشمیر چلے گئے اور یونہی کہنا شروع کر دیں۔کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں بچا لیا۔تو کیا دنیا کا کوئی بھی شخص ہماری اس بات کو ماننے کے لئے تیار ہوگا۔اسی طرح ہم کہتے ہیں بے شک اللہ تعالیٰ اپنے بعض انبیاء کو اسی طرح بچاتا ہے جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ذکر کیا۔اور یہ بالکل درست ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ کیا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عقیدہ کے رو سے حضرت یحیی انہی میں سے ہیں اگر نہیں کی تو پھر آپ کا صریح فیصلہ موجود ہوتے ہوئے ہم حضرت بیجی علیہ السلام کو اس قانون کے نیچے کس طرح لا سکتے ہیں۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ سے صاف عیاں ہے کہ یہاں آپ تمام انبیاء کا ذکر نہیں کر رہے۔بلکہ صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عیسی علیہ السلام کا ذکر کر رہے ہیں۔کیونکہ حضرت عیسی علیہ السلام ہی وہ تھے جن کے متعلق دشمنوں نے سمجھا کہ انہوں نے آپ کو ہلاک کر دیا ہے حالانکہ موت تک ان کی نوبت نہیں پہنچی تھی۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ نبی ہوئے ہیں جن کے متعلق دشمنوں نے یہ خیال کیا کہ وہ ہمارے ہاتھ سے نکل گئے ہیں۔حالانکہ آپ وہیں غار ثور میں چھپے بیٹھے تھے۔تو یہ دونوں مثالیں صرف دونبیوں کے متعلق ہیں۔جن میں سے ایک اپنے سلسلہ کا آخری نبی تھا۔اور دوسرا اپنے سلسلہ کا پہلا نبی اور یہ دونوں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے فتویٰ کے مطابق قتل نہیں ہو سکتے تھے۔پس یہ دونوں مثالیں بتاتی ہیں کہ ان میں محض دونوں نبیوں یعنی حضرت عیسی علیہ السلام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا گیا ہے اگر درمیانی انبیاء کے متعلق بھی یہی اصول ہوتا تو ان کی بھی کوئی مثال آپ کیوں پیش نہ فرماتے۔دوسرا حوالہ اعجاز اسیح سے یہ پیش کیا گیا ہے کہ وَلَمَّا جَاءَ هُمْ إِمَامٌ بِمَا لَا تَهْوَىٰ اَنْفُسُهُمْ أَرَادُوا اَنْ يَقْتُلُوهُ وَهُمْ يَعْلَمُونَ وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يَمُوتُ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ فَكَيْفَ الْمُرْسَلُونَ أَنَّهُ يَعْصِمُ عِبَادَهِ مِنْ عِنْدِهِ وَلَوْمَكَرَ الْمَاكِرُونَ ) کہ جب ان لوگوں کے پاس امام وہ تعلیم لایا جسے ان کے نفس پسند نہ کرتے تھے تو انہوں نے دیدہ دانستہ اس کے قتل کا ارادہ کیا۔