خطبات محمود (جلد 19) — Page 60
خطبات محمود سال ۱۹۳۸ء پس جمعہ کا میں استثناء کرتا ہوں اور اُس دن دو کھانوں کی اجازت دیتا ہوں۔کیونکہ جمعہ کے متعلق بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ یہ ہماری عید ہے۔بعض لوگوں کا خیال ہے کہ چھٹیوں کے دنوں میں چونکہ رشتہ دار وغیرہ جمع ہوتے ہیں اور ان کی خاص طور پر خاطر مدارت کرنی پڑتی ہے اس لئے چھٹی کے دن بھی اس قید کر اُڑا دیا جائے۔میرے لئے یہ سوال مشکل پیدا کر رہا ہے کہ میں اتوار کو چھٹی قرار دوں یا جمعہ کو۔کیونکہ اصل سوال یہ ہے کہ چونکہ چھٹی کے دن رشتہ دار ایک دوسرے کے ہاں ملاقات کیلئے آتے ہیں اس لئے اس خوشی کی کے موقع پر کسی قدر خاطر مدارات کیلئے یہ اجازت ہونی چاہئے کہ ایک سے زائد کھانے پکائے جائیں۔اب ایک طرف چونکہ سرکاری دفاتر میں اتوار کو چھٹی ہوتی ہے اس لئے اس اجازت کے ماتحت اتوار کو مستثنیٰ کرنا چاہئے لیکن دوسری طرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کیلئے عید کا لفظ فرمایا ہے اس لئے اس رخصت کا حقدار وہ دن ہے۔اگر شریعت اور موجودہ حالات کا لحاظ رکھا جائے تو ہفتہ میں دو دن مستقلی کرنے پڑتے ہیں لیکن ہفتہ میں دو دن کا استثناء بہت زیادہ ہے اور اس طرح سہولت بہت وسیع ہو جاتی ہے اس لئے میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کا ادب ملحوظ رکھتے ہوئے یہی مناسب سمجھتا ہوں کہ ہم چھٹی کا دن جمعہ کو ہی رار دیں۔گو عملاً ہمارے ملک میں جمعہ کے دن چھٹی نہیں ہوتی۔لیکن زمیندار ، تاجر اور جولوگ ایسی جگہوں میں ملازم ہیں جہاں جمعہ کے دن چھٹی ملتی ہے اب بھی جمعہ کو چھٹی کرتے ہیں اور کر سکتے ہیں۔دوسرے لوگ جنہیں اتوار کو چھٹی ملتی ہے وہ بھی اگر چاہیں تو اس بات کی عادت ڈال سکتے ہیں کہ اتوار کو اپنے آرام کا وقت رکھ لیں اور جمعہ کی شام کو اپنے کام کاج سے فارغ ہو کر اپنے رشتہ داروں سے مل لیں۔گویا رشتہ داروں کی ملاقات کا وقت بجائے اتوار کے جمعہ کی شام کو رکھا جائے۔اس طرح جمعہ کے استثناء سے فائدہ اُٹھا کر وہ ان کی خاطر مدارات کیلئے کی ایک سے زائد کھانا تیار کر سکتے ہیں۔غرض شرعی مسئلہ چونکہ جمعہ کی تائید میں ہے اس لئے میرا میلان طبع اسی طرف ہے کہ بجائے اتوار کے جمعہ کو مستقلی کیا جائے۔بعد میں اگر دوست اس میں کوئی مشکلات دیکھیں تو وہ بتا سکتے ہیں اور اس پر ہر وقت غور کیا جا سکتا ہے۔فی الحال میں جمعہ کا استثناء کرتا ہوں۔مگر اس کا کی