خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 595 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 595

خطبات محمود ۵۹۵ سال ۱۹۳۸ء دی ہے دوسری حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض صحابہ کی گواہیاں پیش کی ہیں۔ان تحریروں اور شہادتوں کے بعد کسی کا اپنے قیاس سے باتیں کرنا ہرگز درست نہیں ہوسکتا اور میرے نزدیک الفضل والوں نے قطعا فرض شناسی سے کام نہیں لیا۔ان کو چاہئے تھا کہ وہ اس مضمون کو ذکر کی دیتے یا کم سے کم نظارت دعوۃ و تبلیغ کے پیش کرتے یا میرے پاس بھجوا دیتے۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قطعی اور یقینی حوالے انہی کے اخبار میں شائع ہو چکے تھے تو اس کے بعد کسی مخالف مضمون کے درج کرنے کے معنے ہی کیا تھے۔بیشک مولوی ابو العطاء صاحب کے مضمون میں بھی بعض حوالے ہیں مگر وہ سب قیاسات اور استدلالات ہیں لیکن مولوی محمد اسمعیلی صاحب کے مضمون میں اس کے متعلق نصوص درج ہیں اور نصوص بینہ کے شائع ہو جانے کے بعد ہرگز الفضل کا حق نہ تھا کہ بغیر مشورہ کے اس مضمون کو شائع کرتا اور ادارہ الفضل کو چاہئے تھا کہ ایسا مضمون میرے سامنے پیش کرتا اور اگر میرے سامنے انہوں نے پیش نہیں کیا تھا تو خود ہی رڈ کر دیتے مگر انہوں نے قطعاً فرض شناسی سے کام نہیں لیا۔پس میں اس موقع پر یہ امر واضح کر دیتا ہوں کہ صحابہ کی موجودگی میں نئے علماء کو یہ ہرگز کوئی حق نہیں کہ وہ اپنی طرف سے استنباط اور اجتہاد کریں۔اگر دنیا نے اپنے استنباط اور اجتہاد سے یہ کام لینا تھا تو کسی نبی کے آنے کی کیا ضرورت تھی۔یہ ہمارا حق ہے کہ اگر کوئی اختلاف ہو تو کی ہم اس کو نپٹا ئیں اور صحیح طریق جماعت کے سامنے پیش کریں اور نئے علماء کا بھی یہ فرض ہے کہ جب کوئی اختلافی مسئلہ سامنے آ جائے تو وہ اسے مجلس صحابہ کے سامنے پیش کریں۔بیشک وہ خود اس امر کا اختیار نہیں رکھتے کہ صحابہ کی ایک مجلس قائم کریں مگر وہ سلسلہ کی وساطت سے ایسا کر سکتے ہیں ان کا فرض ہے کہ وہ اختلافی مسئلہ میرے سامنے رکھیں۔اگر میں اس کے متعلق ضرورت سمجھوں گا تو خود بخو دصحابہ کو جمع کرلوں گا اور اس طرح جو بات طے ہوگی وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے منشا کے عین مطابق ہوگی۔اگر ہم یہ طریق اختیار کریں تو آئندہ کے لئے بالکل امن ہو جائے گا اور کوئی ایسا اختلاف پیدا نہیں ہوگا جو جماعت کی گمراہی کا موجب ہولیکن اگر ہر شخص اپنے طور پر ایسے مسائل پر رائے زنی کرنا شروع کر دے جن کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کھلے حوالے موجود ہوں اور ایسا استدلال پیش کرے جو ان کو رڈ کرتا ہو تو