خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 579 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 579

خطبات محمود ۵۷۹ سال ۱۹۳۸ء مگر یہ بات بہر حال یقینی ہے کہ ہم نے اس بات کو اتنے تو اتر کے ساتھ سُنا ہے کہ اس میں شبہ کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہوسکتی۔مولوی ابو العطاء صاحب نے مولوی غلام رسول صاحب را جیکی کی ایک شہادت بھی اپنے مضمون میں درج کی ہے۔وہ لکھتے ہیں : بالآ خر میں جناب مولوی علام رسول صاحب را جیکی کے ایک تازہ خط کے مندرجہ ذیل اقتباس پر مضمون کو ختم کرتا ہوں جو یہ ہے: حضرت خلیفہ اول کا یہی عقیدہ تھا کہ کوئی نبی قتل نہیں کیا گیا۔بلکہ میں شہادۃ باللہ لکھتا ہوں کہ میں نے اپنے کانوں سے ان کی زبانِ مبارک سے سُنا ہے کہ میں چونکہ نبیوں سے بہت محبت رکھتا ہوں اس لئے میں بھی قتل سے محفوظ رہوں گا۔شاید یہ بات انہوں نے کسی الہامی بشارت کی بنا پر کہی ہو یا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی مماثلت حفاظت پر قیاس فرماتے ہوئے “۔میں خود بتا چکا ہوں کہ حضرت خلیفہ اُمسیح الاوّل کا یہی خیال تھا مگر جب ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابوں سے حوالہ جات نکال نکال کر آپ کو بتائے تو آپ نے فرمایا اب کی میں آئندہ کے لئے اس بات کو بیان نہیں کروں گا۔مجھے یہ یاد نہیں کہ میں نے حضرت خلیفہ اول کو وہ روایت سنائی تھی یا نہیں جو ابھی میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق بیان کی ہے اور جس میں آپ نے فرمایا تھا کہ اگر اس آیت کا یہی مطلب ہے تو اس کے آخری کی حصہ کا کیا مطلب ہوا ؟ ممکن ہے شرم کے مارے میں نے آپ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس بات کا ذکر نہ کیا ہو مگر یہ مجھے یقینی طور پر یاد ہے کہ میں اور حافظ صاحب مرحوم متواتر کی آپ کو اس بارہ میں توجہ دلاتے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حوالہ جات دکھاتے کی اور روایات سُناتے تھے۔یہاں تک کہ آپ نے اپنے سابقہ عقیدہ سے رجوع کیا اور فرمایا آئندہ میں یہ بات بیان نہیں کیا کروں گا۔پس یہ شہادت کسی پر محبت نہیں ہوسکتی۔ایک شخص کو جمعہ کے بعد اس بارہ میں حافظ صوفی غلام محمد صاحب نے بھی اپنی شہادت بیان کی جو دوسری شہادتوں کے ساتھ الگ شائع کی جائے گی۔