خطبات محمود (جلد 19) — Page 57
خطبات محمود ۵۷ سال ۱۹۳۸ء کوئی برائی یا عیب رکھتی ہیں، ان میں اگر کسی وقت کوئی سہولت دی جاتی ہے تو وہ سہولت عارضی ہوتی ہے، اصل حکم عارضی نہیں ہوتا۔مثلاً تحریک جدید ہے اس میں ایک ہدایت یہ تھی کہ سادہ زندگی بسر کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔اب یہ غور کرنا چاہئے کہ آیا سادہ زندگی اسلام کا کوئی اصل ہے یا ضرورت کے مطابق اس کی ہدایت دی جاتی ہے۔اگر اصل اسلامی تعلیم یہ ہو کہ انسان کو خوب عیاشا نہ طور پر زندگی بسر کرنی چاہئے تو سادہ زندگی کا حکم عارضی سمجھا جائے گا اور یہ سوال ہر وقت کیا جا سکے گا کہ اب اس ہدایت پر عمل ترک کر دیا جائے یا نہ کیا جائے۔لیکن اگر اسلام کی اصل تعلیم سادہ زندگی کی ہو تو پھر اس حکم کے متعلق یہ سوال نہیں ہوگا کہ یہ عارضی ہے اسے واپس لے لیا جائے بلکہ یہ سوال ہو گا کہ اس حکم کو کامل طور پر جاری کرنے میں اگر کوئی روک تھی تو اس روک کو کب دُور کیا جائے گا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اسلام نے بطور شریعت سادہ زندگی کی کوئی تعریف نہیں کی۔اسلام نے بطور اصول یہ تو بتایا ہے کہ سادہ زندگی اختیار کرو مگر یہ تعریف نہیں کی کہ سادہ زندگی کس کو کہتے ہیں۔پس یہ بحث تو کی جاسکتی ہے اور ہر وقت کی کی جاسکتی ہے کہ سادہ زندگی کی تعریف کیا ہے اور آیا فلاں احکام جو سادہ زندگی اختیار کرنے کے ضمن میں دیئے گئے ہیں وہ سادہ زندگی سے تعلق رکھتے ہیں یا نہیں رکھتے۔یا بعض افراد یا بعض قو میں آپس میں مل کر فیصلہ کر لیں کہ فلاں بات بھی سادہ زندگی کے اصول میں شامل کر لینی چاہئے لیکن اصولی طور پر اس بات پر بحث نہیں ہو سکتی کہ آیا سادہ زندگی اختیار کرنی چاہئے یا تی نہیں۔کیونکہ یہ خالص اسلام کا حکم ہے اور قرآن کریم کی بیسیوں آیات اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بیسیوں احکام اس معاملہ میں موجود ہیں جو ہمارے لئے خضرِ راہ اور ہدایت نامہ ہیں اور پھر ہماری عقل بھی ہماری اسی طرف راہنمائی کرتی ہے۔اگر ہم نے دنیا میں اس اسلامی تہذیب کو قائم کرنا ہے جو اس دنیا میں بھی اسی طرح بنی نوع انسان کیلئے بہشت کھینچ کر لاتی ہے جس طرح اگلے جہان میں بہشت ہے تو لازماً اس معاملہ میں آہستہ آہستہ ہمیں بعض اور کی قیود بھی بڑھانی پڑیں گی یہاں تک کہ اسلام کے منشاء کے مطابق سادہ زندگی کی روح دنیا میں قائم ہو جائے۔بیشک ایک کھانا کھانا چاہئے یا زیادہ کی بھی اجازت ہو۔یہ خود اپنی ذات میں پورے طور پر سادہ زندگی کے مفہوم کو ادا کرنے والے نہیں لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی