خطبات محمود (جلد 19) — Page 521
خطبات محمود ۵۲۱ سال ۱۹۳۸ء وہ نفس کا چندہ ہیں اور جب تک یہ دونوں حواس مکمل نہ ہوں ترقی نہیں ہو سکتی۔بعض لوگوں کی آنکھیں بیمار ہوتی ہیں وہ دیکھ تو سکتی ہیں مگر رنگوں میں امتیاز نہیں کر سکتیں۔ریلوے کے امتحانات کے وقت یہ امر خاص طور پر دیکھا جاتا ہے کہ رنگ صحیح نظر آتا ہے یا نہیں۔پہلے تو اس بیماری کا علم ہی نہ تھا یا علم تو تھا مگر یہ علم نہ تھا کہ کثرت سے لوگ اس میں مبتلا ہوتے ہیں۔جب سے ریلوے کے امتحانات شروع ہوئے ہیں اس کی اہمیت ظاہر ہو گئی ہے۔ریلوے میں اس کا خاص خیال کی رکھا جاتا ہے۔تا ایسا نہ ہو کہ سرخ جھنڈی دکھائی جائے اور وہ اسے سبنر سمجھ لے اور اس طرح گاڑی کو ہی کہیں ٹکرا دے۔چنانچہ ان امتحانوں کے بعد پتہ لگا ہے۔کہ ایک خاصی تعدا دلوگوں کی ایسی ہے جو رنگوں کے پہچاننے میں غلطی کر جاتی ہے۔اس طرح بعض دفعہ کانوں میں نقص ہو جاتا ہے۔کسی اندرونی نقص کی وجہ سے جس کمزور ہو جاتی ہے اور انسان کا جسم بیمار ہوتا کی ہے۔پس ان دونوں جنوں کی درستی جس طرح ظاہری جسم کے لئے ضروری ہے اسی طرح روحانی جسم کے لئے بھی ضروری ہے۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے بیرونی حواس الوہیت والے افعال ہیں ان سے انسان کبھی رحمن بنتا ہے، کبھی رحیم کبھی مالک۔بعض صفات اللہ تعالیٰ کی ایسی ہیں جو اپنی ذات میں مکمل ہیں۔جیسے اللہ تعالی محی ہے اس کے زندہ ہونے کا مخلوق کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔اور بھی ایسی صفات ہیں جن کی حقیقت انسان پر نہیں کھولی جاتی اس لئے کہ ان کا واسطہ انسان کے ساتھ نہیں ہوتا۔ان کو قرآن کریم نے مجمل الفاظ میں یہ کہہ کر بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے عرش پر استویٰ کیا۔اس میں اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ وہ ایسی بالا طاقت ہے کہ اس حد تک ہی انسان کی نظر جاسکتی ہے اس سے اوپر نہیں۔عرش ایک واسطہ ہے جس طرح انسان مخلوق اور خدا تعالیٰ کے درمیان واسطہ ہے اسی طرح عرش واسطہ ہے اللہ تعالیٰ کی ذاتی کج صفات اور افادہ والی صفات کے درمیان۔وہ جو صفات ہیں۔ان کا رحمانیت اور رحیمیت کے ساتھ کیا تعلق ہے۔اللہ تعالیٰ کس طرح ازلی ابدی ہے۔یہ ایسی باتیں ہیں جن کو انسان سمجھ کی نہیں سکتا۔اللہ تعالیٰ کی ذاتی صفات کا علم نہ انسان کو ہے نہ ہو سکتا ہے۔ہاں جو بندوں سے تعلق رکھتی ہیں ان کا مظہر انسان کو بنایا گیا ہے اور تکمیل کے لئے ہم سے دونوں باتوں کی امید رکھی گئی ہے۔یعنی اپنی ذات کو بھی نقائص سے پاک کیا جائے اور دوسروں کے ساتھ بھی حُسنِ سلوک