خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 507 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 507

خطبات محمود ۵۰۷ سال ۱۹۳۸ منافقوں کی تائید کرتے اور اس طرح جماعت میں فتنہ و فساد پیدا کرتے ہیں۔یہ منافق نہیں کی ہوتے مگر اس وجہ سے کہ منافقوں سے تعلقات رکھتے ہیں قریب ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ انہیں منافقوں میں شامل کر دے یا وہی سزا ان پر بھی وارد کر دے جو اُس کے حضور منافقوں کے لئے مقدر ہے۔پس میں منافقوں کی ان چاروں اقسام کی طرف جماعت کو توجہ دلاتے ہوئے کہتا ہوں کہ جب تم پہلی دو قسموں کے منافقوں کو پہچانتے ہو تو باقی دو کو بھی تلاش کرو۔پھر دیکھو کہ خدا تعالیٰ کے فضل کس سُرعت سے تم پر نازل ہوتے اور تمہارے قدم کو کتنی جلدی میدان ترقی میں آگے سے آگے بڑھا دیتے ہیں۔ایسے لوگ ہماری جماعت میں بھی ہیں اور وہ طرح طرح کے فتنے پیدا کرتے رہتے ہیں مگر وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔کامیاب ہمیشہ الہی سلسلہ ہوتا ہے اور اب بھی اللہ تعالیٰ کا سلسلہ ہی کامیاب ہوگا۔ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ منافقوں کی رُکاوٹوں کی وجہ سے وہ فتح جو احمدیت کو بیس سال میں ہوتی ہے وہ بجائے ہیں سال کے تئیں سالوں میں ہو مگر یہ نہیں ہوسکتا کہ فتح نہ آئے لیکن کیا تم یہ پسند کرو گے کہ خدا تعالیٰ کا نور دس سال اور پیچھے جا پڑے؟ مجھے افسوس ہے کہ کئی نادان ہماری جماعت میں ایسے بھی ہیں جو یہ کہا کرتے ہیں کہ ان کی منافقوں کی ریشہ دوانیوں سے حرج کیا ہے جبکہ ہماری فتح یقینی ہے حالانکہ وہ اتنا نہیں سمجھتے کہ بے شک ہماری فتح یقینی ہے مگر ان کی کوششوں اور فتنوں کے نتیجہ میں یہ بھی تو ممکن ہے کہ وہ فتح جو دس سالوں میں ہونی ہے وہ بجائے دس سالوں کے بیس سالوں میں ہو اور اس طرح دس سال فتح میں دیر ہو جائے حالانکہ مؤمن تو ایک منٹ کی دیر بھی پسند نہیں کرتا کجا یہ کہ وہ دس یا بیس سال کی دیر کو پسند کرے۔کیا اگر کسی کا اکلوتا بیٹا بیمار ہو اور ڈاکٹر اُس سے یہ کہے کہ وہ ہیں دنوں میں اچھا ہو جائے گا لیکن اسی دوران میں ایک اور ڈاکٹر آجائے اور کہے تم میرے ساتھ ٹھیکہ کر لو۔اتنی فیس میں لوں گا اور اسے دس دن میں اچھا کر دوں گا تو کیا کوئی ایک باپ بھی ایسا ہو سکتا ہے جس کے پاس روپیہ ہو اور وہ پھر یہ پسند نہ کرے کہ اُس کا اکلوتا بیٹا بیس دنوں کی بجائے دس دنوں میں اچھا ہو جائے؟ میں تو سمجھتا ہوں اگر کسی شخص کے پاس روپیہ ہوگا تو وہ سینکڑوں روپے دے کر بھی یہ چاہے گا کہ اس کا بیٹا ہیں دن کی بجائے دس دن میں اچھا ہو جائے۔مگر کیا تمہاری