خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 502 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 502

خطبات محمود ۵۰۲ سال ۱۹۳۸ء جوایمان کے بغیر داخل ہوتا ہے۔یا منافق وہ ہوتا ہے جو گوایمان کے ساتھ ہی سلسلہ میں داخل ہوا ہوتا ہے مگر بعد میں گلی طور پر اس کے دل سے ایمان نکل جاتا ہے حالانکہ یہ صرف منافقوں کی دو قسمیں ہیں ورنہ ان کے علاوہ بھی منافقوں کی اور قسمیں ہیں۔مثلاً ایک تو وہ منافق ہے جو عقائد میں ہمارے ساتھ متحد ہوتا ہے مگر اس کے دل میں بشاشت ایمان باقی نہیں رہتی اب اس کا کام صرف اتنا ہے کہ وہ اعتراض کرتا رہتا ہے۔جب اسے فائدہ پہنچے گا ہمارے ساتھ شامل ہو جائے گا اور جب اسے کوئی نقصان پہنچے گا وہ اعتراض کرنے لگ جائے گا۔قرآن کریم کی میں ان کا بڑا لطیف نقشہ کھنچا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب لڑائی میں نقصان ہوتا ہے تو منافق کہتے ہیں ہم نے پہلے ہی کہا تھا کہ لڑائی نہیں کرنی چاہئے مگر ہماری بات تو کوئی سنتات ہی نہیں۔ہم بہتیرے چینے چلائے کہ دیکھولڑائی کے لئے مت جاؤ مگر ہماری ایک بھی نہ سنی گئی۔اس پر کمزور دل مؤمن سمجھتا ہے انہوں نے کہا تو تھا؟ معلوم ہوتا ہے یہ سچ کہتے ہیں۔اور وہ یہ کی نہیں جانتا کہ انہوں نے محض مسلمانوں کو کمزور کرنے اور ان کے ارادوں کو پست کرنے کے لئے یہ الفاظ کہے تھے خیر خواہی اور محبت کے لئے نہیں کہے تھے۔تو کمزور ایمان والے منافقوں کی ایسی کی باتوں میں آجاتے ہیں اور اُن کو مخلص سمجھ کر اُن سے تعلقات رکھنے شروع کر دیتے ہیں حالانکہ منافق عملی طور پر سخت کمزور ہوتے ہیں اور اپنی عملی کمزوری کی وجہ سے ہی جماعت کی ترقی میں ہمیشہ روکیں ڈالتے رہے ہیں۔جہاں قربانی کا سوال آتا ہے وہاں یہ کہنا شروع کر دیتے ہیں کہ قربانیوں سے جماعت کی طاقت کو برباد کیا جا رہا ہے اور کمزور لوگ سمجھتے ہیں ان کے دل میں سلسلہ کا کس قدر درد ہے اور اگر کبھی کوئی قربانی نتیجہ خیز نہ ہو بلکہ جماعت کو اس کی وجہ سے کچھ نقصان پہنچے تو پھر تو پھولے نہیں سماتے اور کہتے ہیں ہم نے نہیں کہا تھا اس قسم کی قربانیاں بے فائدہ ہیں حالانکہ جہاں جماعت کو دس بیس کا میابیاں ہوئی تھیں وہاں انہوں نے کونسا مشورہ دیا تھا۔مگر جب کامیابی ہو تو اُس وقت تو منافق بالکل خاموش رہتا ہے اور جب کوئی نا کا می ہو تو کی بڑھ بڑھ کر باتیں شروع کر دیتا ہے صاف پتہ لگتا ہے کہ اس کی غرض محض جماعت کو بدنام کرنا ہے اور کوئی نہیں۔اور اگر فرض بھی کرو کہ ایک کام کا نتیجہ اتنا اچھا نہیں نکلا جس قدرا چھے نتیجہ کی ہمیں توقع تھی تو اس سے حرج کونسا ہوا۔کیا وہ یہ نہیں دیکھتا کہ رات دن جماعت ترقی کر رہی ہے