خطبات محمود (جلد 19) — Page 486
خطبات محمود ۴۸۶ سال ۱۹۳۸ ہماری طرف سے لوگوں کی توجہ ہٹ گئی ہے تو پھر اپنی اصلی حالت پر آجائیں گے۔غرض منافقوں کی کی کئی اقسام ہیں مگر افسوس ہے کہ ہماری جماعت کے دوست ان اقسام کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی کرتے اور اسی لئے بعض دفعہ دھو کا کھا جاتے اور منافق کو پہچاننے سے قاصر رہتے ہیں۔قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ منافقوں کی ایک قسم وہ ہے جن کے دل میں کبھی ایمان نہیں آتا وہ کسی ڈر یا لالچ کے اثر کے ماتحت ایک مذہب میں داخل ہو جاتے ہیں ورنہ ایمان ایک دن بھی ان کے دلوں میں داخل نہیں ہوتا۔مثلاً فرض کرو کسی کے تمام رشتے دار احمدی ہو گئے ہیں اور صرف اکیلا وہی غیر احمدی رہ گیا ہے یا کوئی گاؤں ہے وہاں سب کے سب احمدی ہو گئے ہیں اور صرف ایک یا دو آدمی علیحدہ ہیں۔اب جس خاندان کے تمام افراد احمدی ہو چکے ہیں ،صرف ایک ان سے علیحدہ ہے وہ دل میں خیال کرتا ہے کہ اگر میں علیحدہ رہا تو کیا فائدہ میرے تمام رشتے دار مجھے بُرا بھلا کہیں گے اور ہر وقت لڑائی جھگڑا رہے گا، آؤ اوپر سے احمدی ہو جاتے ہیں۔چنانچہ وہ ڈر کر احمدی ہو جاتا ہے ورنہ ایمان اُس کے اندر نہیں ہوتا۔یا دیکھتا ہے بیوی بھی ادھر چلی گئی ، باپ بھی ادھر چلا گیا ، بچے بھی ادھر چلے گئے ، اب میں اکیلا ایک طرف کیا اچھا لگتا ہوں اور چونکہ منافق دل کا کمزور ہوتا ہے اور وہ مقابلہ کی قوت اپنے اندر نہیں رکھتا اس لئے وہ سمجھتا ہے کہ بجائے مخالفت کے یہی بہتر ہے کہ میں بھی اوپر سے احمدیت میں شامل ہو جاؤں اور دل میں جو چاہے عقیدہ رکھوں۔یا بعض دفعہ مثلاً احمدیت کا ایسا غلبہ ہوا کہ گاؤں کا گاؤں احمدی ہو گیا۔اب یہ سمجھتا ہے گاؤں میں مجھ اکیلے کی کیا حیثیت ہوگی اور مجھے ضرورت کیا ت ہے کہ میں خواہ مخواہ سب سے لڑائی کرتا پھروں چنا نچہ وہ اس ڈر کے مارے احمدیت قبول کر لیتا کی ہے۔مگر اندر سے وہ ویسا ہی بے ایمان ہوتا ہے جیسے احمدیت میں داخل ہونے سے پہلے تھا۔یا بعض دفعہ لالچ کے ماتحت بھی ایک انسان دوسرا مذہب اختیار کر لیتا ہے۔مثلاً کوئی امیر احمدی کی زیادہ پُر جوش ہوا اور اُس نے چاہا کہ وہ اپنے تمام نو کر احمدی ہی رکھے۔اس پر ایک مخالف کو جو کی بھو کا مر رہا ہے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کسی احمدی کو نو کر رکھنا چاہتا ہے۔یہ دیکھ کر وہ جھٹ مرکز میں بیعت کی ایک چٹھی لکھ دیتا ہے اور جب ہماری طرف سے اُسے جواب جاتا ہے تو وہ اُس خط کو سنبھال کر رکھ لیتا ہے اور ہمیں کہتا ہے احمدیت کی وجہ سے لوگوں نے مجھے سخت تنگ کرنا شروع کی