خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 466 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 466

خطبات محمود ۴۶۶ سال ۱۹۳۸ ہم دیکھتے ہیں کہ منافق تھے یا نہیں۔قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے زمانہ میں منافقوں کی نے تین مرتبہ بڑا زور پکڑا ہے۔ایک قصہ تو سامری کا مشہور ہی ہے۔یہ شخص حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ بڑا اخلاص رکھتا تھا اور آپ کے ساتھ ہجرت کر کے آیا تھا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کو الہام ہوا کہ طور پر آؤ ہم تم سے باتیں کریں گے۔آپ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے لئے وہاں پہنچے اور وہاں عبادت کی اللہ تعالیٰ کو خوش کرنے کی بہت جدوجہد کی جو اللہ تعالیٰ کو بہت پسند آئی اور اس نے آپ کو الہام کیا۔کہ اس مدت میں ہم دس دن اور بڑھاتے ہیں اور دس دن آپ کو اور الہام ہوں گے۔پہلے تمیں دن تھے۔پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اتممتها بعشر ؟ مگر جب تمہیں دن گزر گئے اور لوگ حیران ہوئے کہ موسیٰ واپس کیوں نہیں آئے تو سامری جھٹ کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا کہ موسیٰ تو گیا ہے مر۔اور جس سے وہ باتیں کیا کرتا تھا اس کا مجھے پتہ ہے۔لوگوں سے جھٹ وہ سونا لیا جو بنی اسرائیل نے فرعونیوں سے قرض لیا ہوا تھا اور ایک کی بچھڑے کی شکل بنادی۔اس کے اندر ایک خلا رکھا جس سے آواز نکلتی تھی۔ہے جیسے آجکل مکینک کی وغیرہ بنا لیتے ہیں۔یہ دیکھ کر بنی اسرائیل کو وہی عقیدت یاد آ گئی جو مصر میں ان کو بچھڑے سے تھی اور جب اس میں سے آواز نکلی تو انہوں نے سمجھ لیا کہ یہ واقعی خدا ہے۔فوراً ایک جماعت اس کے ساتھ شامل ہو گئی اور آناً فاناً اس کا اتنا رسوخ بڑھ گیا کہ حضرت ہارون علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تعلق اخلاص رکھنے والے دوسرے لوگ ان کو کچھ نہ کہہ سکے۔ان کو خیال تھا کہ ایسا نہ ہو کہ باہم تلوار چل جائے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام آکر ناراض ہوں۔انہیں یقین کی تھا کہ حضرت موسیٰ فوت نہیں ہوئے۔اللہ تعالیٰ کے حکم سے گئے ہوئے ہیں اور ضرور واپس آئینگے کیونکہ ابھی وہ پیشگوئیاں بھی پوری نہیں ہوئیں جو آپ کی زندگی میں ہوتی ہیں اس لئے اگر ہم نے کچھ کہا اور فساد پیدا ہو گیا تو ایسا نہ ہو کہ حضرت موسیٰ آ کر ناراض ہوں۔اور کہیں کہ تمہیں سمجھانا نہیں آیا۔پس وہ اسی وہم میں کہ ایسا نہ ہو حضرت موسیٰ آکر کہیں کہ تم نے لوگوں کو کی مرتذ کر دیا۔خاموش رہے نتیجہ یہ ہوا کہ ان منافقوں کی حکومت ہوگئی۔اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو بھی الہاماً بتا دیا کہ پتہ بھی ہے پیچھے کیا ہوا ہے۔چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام غصہ میں واپس آئے اور بائیبل سے معلوم ہوتا ہے کہ تین ہزار منافق قتل کئے گئے۔تمہیں تو بعض دفعہ یہ