خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 461 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 461

خطبات محمود ۴۶۱ سال ۱۹۳۸ء دونوں میں بڑا فرق ہے بعض اوقات مخلص مسلمانوں سے بھی شریعت کے کسی حصہ کی خلاف ورزی ہو جاتی ہے مگر اس وجہ سے ہم انہیں کا فرنہیں کہتے۔نماز کے متعلق میرا تو یہی عقیدہ ہے کہ جو شخص اسے چھوڑتا ہے وہ مسلمان نہیں مگر ایک گروہ ایسا ہے جو تارک نماز کو کا فرنہیں کہتا۔اب دیکھو مسلمانوں میں سے ایک جماعت ایسی ہے جو نمازوں میں سُست ہے، ہزاروں ہیں جو روزے با قاعدہ نہیں رکھتے اور شریعت کے دوسرے احکام بھی توڑتے رہتے ہیں مگر ہم ان کو مسلمان ہی کہتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ایک بات کو پیشہ کے طور پر اختیار کر لینا اور بات ہے اور غفلت یا غلطی ہو جانا اور ہے۔ابوالدرداء ایک بڑے صحابی گزرے ہیں وہ اتنے پائیڈ کے صحابی تھے کہ ان کی موجودگی میں صحابہ کوئی کام ان کے مشورہ کے بغیر نہ کرتے تھے۔ان کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا کہ تمہارے اندر جاہلیت کی رگ ہے۔انہوں نے پوچھا کہ جاہلیت کفر والی یا اسلام والی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کفر والی۔تو بعض دفعہ مخلص آدمی بھی منافقانہ فعل کر دیتا ہے۔وہ خود منافق نہیں ہوتا ہاں اس کا فعل منافقانہ ہوتا ہے۔جن کو سزادی گئی تھی منافق سمجھ کر نہیں بلکہ منافقانہ فعل پر سزا دی گئی تھی اور جن لوگوں نے سفارشیں کیں انہوں نے اسلام کے احکام کی خلاف ورزی کی اس لئے ان کا فعل بھی منافقانہ ہے گو وہ خود منافق نہیں ہیں۔بعض امور میں شریعت نے سفارش کی اجازت دی ہے مگر وہ ایسے امور ہیں جو سیاسی اور حکومت کے متعلق نہ ہوں۔ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کو جس نے چوری کی تھی سزا دی۔اس پر بعض لوگ سفارشیں کرنے آئے کیونکہ اس وقت تک اسلامی تعلیم پوری طرح قائم نہیں ہوئی تھی مگر سفارش سن کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سخت ناراض ہوئے اور فرمایا خدا کی قسم اگر فاطمہ چوری کرے تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دوں گا۔سے تو ایسی باتوں میں سفارش کرنا سخت نادانی کی بات ہے۔اس کے معنے نظام کو درہم برہم کرنے کے ہیں اس لئے میں اعلان کرتا ہوں کہ کوئی شخص کسی ناظر کے پاس انتظامی کام کے متعلق کوئی سفارش نہ کرے اور اگر اس اعلان کے بعد بھی کرے گا تو میں اسے منافق سمجھوں گا۔کسی قاضی یا تو ناظر کے پاس کسی ایسے معاملہ میں سفارش منافقانہ فعل ہے اور اس کے معنی یہ ہیں کہ اسے اپنے فرض کی ادائیگی سے روکا جائے۔نظام سلسلہ میں ہر شخص یکساں حیثیت رکھتا ہے۔یہ لوگ