خطبات محمود (جلد 19) — Page 441
خطبات محمود ۴۴۱ سال ۱۹۳۸ اب میں اصل جواب کی طرف آتا ہوں۔میں تمہید میں کہہ آیا ہوں کہ جب قضاء اپنا منشاء پورا کرلے تو پھر جذبات اپنی قضاء کا کام شروع کرتے ہیں۔چنانچہ میں بتا آیا ہوں کہ انسانی روح افعال سے دو طرح سے متاثر ہوتی ہے۔ایک قضائی طور پر اور ایک جذباتی طور پر۔بعض دفعہ قضائی فیصلہ اور ہوتا ہے اور جذباتی فیصلہ اور، اور کبھی یہ دونوں فیصلے مطابق بھی ہوتے ہیں۔مگر بہر حال قضائی فیصلہ کے بعد جذباتی قضاء اپنا کام شروع کرتی ہے۔مثلاً ایک حج کا بیٹا اگر قاتل ہے تو جج اسے اسی طرح پھانسی کی سزا کا حکم سنائے گا جس طرح وہ ایک غیر کو پھانسی کی سزا سناتا ہے مگر غیر کو پھانسی کا حکم دیتے ہوئے اس کے دل کی کیفیت وہ کیفیت نہیں ہوگی ، جو اپنے بیٹے کو پھانسی کا فیصلہ سناتے وقت ہوگی۔، بیشک قضائی فیصلہ میں اس کا معاملہ اپنے بیٹے سے اور ایک غیر شخص سے بالکل یکساں ہوگا مگر جب جذباتی قضاء کا فیصلہ آئے گا تو اپنے بیٹے کو پھانسی ملنے کا تصور کر کے اس کا دل خون ہو جائے گا اور اس کی حالت بالکل غیر ہو جائے گی۔تو جذبات کی قضاء اور اصول پر مبنی ہوتی ہے اور قانون کی قضاء اور اصول پر مبنی ہوتی ہے۔اس تمہید کو میں پھر یاد دلاتے ہوئے کہتا ہوں کہ بے شک میاں عزیز احمد صاحب نے جو فعل کیا وہ خلاف شریعت تھا اور ہم اسے برا ہی قرار دیتے ہیں اور قانون نے جو ان کو سزا دی ہم اس پر معترض نہیں گو ہم میں سے بعض کہتے ہیں کہ انہیں پھانسی کی سزا نہیں ملنی چاہئے تھی مگر بہر حال ہم انہیں سزا دینے کو بُرا نہیں کہتے۔ہم کہتے ہیں جب ہائی کورٹ اور پریوی کونسل نے ایک فیصلہ کر دیا تو وہی ٹھیک ہے بالخصوص ایسی حالت میں جبکہ خودان کا اقرار تھا کہ میں نے قتل کیا ہے۔پس قانون نے ان کو جو سزا دی اس پر ہم معترض نہیں اور ہم نے ان کو سچ بولنے کا مشورہ دے کر قضاء کا حق ادا کر دیا چنانچہ ہم نے خود اپنے آدمی سے کہا کہ سچ بولو اور اگر اس کے بدلہ کی میں تمہیں پھانسی ملتی ہے تو بے شک پھانسی پر لٹک جاؤ۔پس دیکھو ہم نے قانون کا منشا پورا کر دیا اور قانون نے جب سزا دی تو ہم نے اس پر اعتراض نہیں کیا بلکہ ہم نے ان کے فعل کو عَلَى الْإِعْلَان بُرا کہا۔اخبارات میں لکھا کہ انہوں نے ناجائز کام کیا ہے اور بار بار کہا کہ ان سے غلطی ہوئی ہے۔پس ہم نے تینوں حق ادا کر دیئے جو شریعت کا حق تھا وہ بھی ادا کر دیا،