خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 422 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 422

خطبات محمود ۴۲۲ سال ۱۹۳۸ء چنانچہ انہوں نے درخواست دے دی۔سرکا ر نے یہ معلوم کر کے کہ واقع میں یہ غریب آدمی ہے اور اپنے مقدمہ کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتا سرکاری وکیل کی امداد کا فیصلہ کیا اور چونکہ ملزم کی طرف سے خواہش تھی کہ اس کی جماعت کا وکیل ہوا اور بہتر ہو تو شیخ بشیر احمد صاحب ہوں جن پر میں زیادہ اعتبار کر سکتا ہوں ہائی کورٹ نے مقدمہ شیخ بشیر احمد صاحب کے سپرد کر دیا اور خود انہیں نہیں ادا کی۔چنانچہ شیخ بشیر احمد صاحب ہائی کورٹ کے حکم سے سرکاری روپیہ پر اس کی طرف سے پیش ہوئے۔اسی طرح جب ہائی کورٹ میں بھی فیصلہ ہو گیا تو اب کی صرف پر یوی کونسل کا مرحلہ باقی تھا۔حکومت کے افسروں نے ان سے دریافت کیا کہ کیا وہ اپنا کیس پر یوی کونسل تک لے جانا چاہتے ہیں انہوں نے پہلے تو کہا کہ نہیں مگر بعد میں کہ دیا کہ ہاں میں لے جانا چاہتا ہوں۔گورنمنٹ نے یہ قانون بنایا ہوا ہے کہ اگر کسی کی (غالباً ) چالیس پاؤنڈ سے کم جائداد ہو تو اس کی اپیل حکومت خود کرتی ہے اور چونکہ ملزم کی اس قدر جائداد نہ تھی حکومت نے خود ہی ان کی طرف سے پریوی کونسل میں اپیل کی۔آپ ہی وہاں کا غذات بھیجے اور آپ ہی وہاں مقدمہ لڑا۔پس جو اصل اعتراض ہے۔کہ میاں عزیز احمد صاحب جیسا غریب کی آدمی ہائی کورٹ اور پھر پریوی کونسل تک کس طرح پہنچا تو اس کا نہایت مختصر مگر حقیقت پر مبنی جواب یہ ہے کہ وہ غریب آدمی سرکار کے کندھوں پر چڑھ کر پہنچا۔کہتے ہیں ایک پاؤں کٹا شخص تھا۔اس پر ایک دفعہ یہ الزام لگا کہ اس نے باغ کے پھل چرا لئے ہیں۔اب باغ کے ارد گرد کی بڑی بھاری دیوار تھی اور بظاہر یہ بات سمجھ میں نہیں آتی تھی کہ ایک پاؤں کٹا شخص اس دیوار پر کیسے چڑھ گیا اور اس نے درختوں پر سے پھل کس طرح اُتار لئے مگر سوائے اس کے اور کوئی مجرم مالتا بھی نہیں تھا۔آخر ایک ہوشیار افسر آیا اور اس نے اس اپاہج کے ساتھ ایک اندھے شخص کو بھی دیکھا۔یہ دیکھتے ہی اس پر تمام معاملہ کھل گیا اور وہ کہنے لگا اب میں بتا تا ہوں کہ اس نے باغ سے پھل کس طرح چرایا ہے۔بات یہ ہے کہ یہ اپاہی شخص اس اندھے کی کمر پر چڑھا اور پھر وہاں سے دیوار پر چڑھ کر اس نے پھل تو ڑلیا۔اسی طرح بے شک میاں عزیز احمد صاحب پر یوی کونسل تک پہنچے مگر حکومت کے پروں پر سوار ہو کر اور اگر یہ نا جائز ہے اور اس طرح پر یوی کونسل تک