خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 400 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 400

خطبات محمود ۴۰۰ سال ۱۹۳۸ء بیان کریں۔کیا ان کے آدمیوں پر جب مقدمات دائر ہوتے ہیں وہ ان کی مدد کرتے ہیں یا نہیں ؟ مثلاً مولوی عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری پر اس وجہ سے مقدمہ ہوا کہ انہوں نے بانی سلسلہ احمدیہ اور جماعت احمدیہ کو اپنی تقریر میں گالیاں دی تھیں۔اب گالیاں دینا اپنی ذات میں ایک جرم ہے۔اخلاقی طور پر بھی اور مذہبی طور پر بھی اور قانونی طور پر بھی لیکن جب وہ مقدمہ ہوا احرار نے ان کے لئے چندے بھی جمع کئے ، وہ وکیل بھی لائے اور وہ جمع ہو کر اور پارٹیاں بن بن کر عدالتوں میں بھی جاتے رہے۔اب سوال یہ ہے کہ وہ ایسا کیوں کرتے ہیں۔اگر کسی ملزم کی مدد کرنا گناہ ہے تو یہ گناہ خود ان کے گھروں میں بھی ہوتا چلا آیا ہے اور جو مقدمات احرار پر ہوئے ہیں ان سب میں ان کی طرف سے ڈیفنس پیش کیا گیا ہے۔انہوں نے چندے بھی اکٹھے کئے ہیں۔انہوں نے مدد کے لئے بھی لوگوں سے اپیلیں کی ہیں اور سب نے قومی طور پر ان میں حصہ لیا ہے مگر ہماری طرف سے کبھی ان پر یہ اعتراض نہیں کیا گیا کہ وہ ملزم کی کیوں امداد کرتے ہیں؟ کیونکہ وہ کہتے تھے کہ اس حصہ میں ہم ملزم کو مجرم نہیں سمجھتے۔تو پھر اگر کوئی دوسرا بھی ملزم کی کسی ایسی بات میں مدد کرتا ہے جس میں وہ اسے مجرم نہیں سمجھتا تو اس پر انہیں اعتراض کرنے کا کیا حق ہے۔بلکہ مشتبہ بات تو الگ رہی ایسے کیسز موجود ہیں جن میں مُجرم نہایت واضح تھا اور مشبہ والی کوئی بات نہیں تھی مگر پھر بھی ان کی مدد کی گئی۔مثلاً میاں عبدالرشید دہلوی نے جب شردھانند جی پر حملہ کیا۔یا میاں علم الدین لاہوری کی نے لاہور کے ایک ہندو مصنف پر حملہ کیا۔یا میاں عبدالکریم نے کراچی میں ایک ہندو یا سکھ کی پر ( مجھے صحیح یاد نہیں ) حملہ کیا۔تو تمام مسلمانوں نے ان کے لئے چندے بھی کئے ، ان کی طرف سے وکیل بھی مقرر کئے گئے اور ان کی ہر رنگ میں امداد بھی کی۔حالانکہ جہاں تک مجھے یاد پڑتا کی ہے ان میں سے دوا قراری مجرم تھے اور وہ کہتے تھے کہ ہم نے واقع میں قتل کیا ہے اور جب وہ اقراری مجرم تھے تو پھر کیا وجہ ہے کہ انہوں نے ان کی امداد کی۔پس بفرض محال اگر یہ اعتراض سچا بھی ہو ( ابھی میں اس اعتراض کو تسلیم نہیں کر رہا۔میں صرف فرض کے طور پر امکانی رنگ میں یہ گفتگو کر رہا ہوں ) اور فرض کرلو کہ جماعت نے میاں عزیز احمد صاحب کی مدد کی اور اس مدد کے معنے یہ تھے کہ ہم نے قتل پر انگیخت کی تو پھر ماننا