خطبات محمود (جلد 19) — Page 324
خطبات محمود ۳۲۴ سال ۱۹۳۸ء میں مان لوں گا کہ حضرت عیسی علیہ السلام زندہ ہیں۔آخر ہوتے ہوتے وہ دس آیتوں پر آگئے اور کہا کہ میں دس آیتیں تو ضرور لاؤں گا جن سے حضرت عیسی کی حیات ثابت ہوتی ہو۔مگر آپ پکا وعدہ کریں کہ قرآن کریم کی آیتیں سننے کے بعد آپ اپنے عقیدہ کو ترک کر دیں گے اور لاہور چل کر شاہی مسجد میں لوگوں کے سامنے تو بہ کریں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہاں میں پختہ وعدہ کرتا ہوں اگر آپ ایک آیت بھی لے آئے تو جس جگہ آپ کہیں گے وہاں پہنچ کر اس عقیدہ کو ترک کرنے کا اعلان کر دوں گا۔یہ سن کر وہ خوش خوش لاہور پہنچے۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی ان دنوں لاہور تھے اور حضرت خلیفۃ امسیح الا ول گو اس وقت جموں میں ملازم تھے مگر آپ بھی اتفاقا کسی ضرورت پر لاہور تشریف لائے ہوئے تھے۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو چونکہ اپنے علم پر بڑا گھمنڈ تھا اس لئے انہوں نے حضرت خلیفہ اسیح الاوّل کے مقابلہ میں اشتہار پر اشتہار دینے شروع کر دیے کہ میرا مقابلہ کرو اور مجھ سے جب چاہو بحث کرلو۔حضرت خلیفہ اول بھی جواب میں اشتہار شائع فرماتے اور اس طرح آپس میں خوب اشتہار بازی ہو رہی تھی اور ایک اکھاڑہ سا لگا ہوا تھا۔مگر شرائط کا تصفیہ نہیں ہوتا تھا۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی یہ کہتے کہ حدیثوں کی رو سے وفات وحیات مسیح پر بحث ہونی چاہئے اور حضرت خلیفہ اوّل یہ فرماتے کہ قرآن کی رو سے بحث ہونی چاہئے۔آخر جب بہت عرصہ گزر گیا اور کوئی فیصلہ نہ ہوا تو لوگوں نے حضرت خلیفہ اول پر زور دینا شروع کر دیا کہ آپ اس شرط کو کچھ نرم کر دیں تا کہ کسی نہ کسی طرح مباحثہ ہو جائے۔حضرت خلیفہ اول نے فرمایا اچھا قرآن کے علاوہ میں یہ تسلیم کرتا ہوں کہ بخاری بھی پیش کر دی جائے۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اس پر بڑے خوش تھے اور مجلس میں بیٹھے خوب فخر کر رہے تھے کہ دیکھا میں نے مولوی نورالدین کو کیسا رگڑا۔آخر وہ قرآن کے علاوہ حدیث کی طرف آہی گیا۔ابھی یہ باتیں ہوہی رہی تھیں کہ یہ کی صاحب وہاں جا پہنچے اور کہنے لگے آپ نے یہ کیا تماشہ بنایا ہوا ہے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کہنے لگے تماشہ کیا ہے مولوی نورالدین سے میں نے بحث کی اور آخر اسے قابو کر ہی لیا۔وہ کہنے لگے ان بحثوں کو چھوڑیے میں تو سیدھا مرزا صاحب کے پاس گیا تھا اور انہیں اس بات پر تیار کر آیا ہوں کہ وہ یہیں لاہور میں آکر شاہی مسجد میں سب لوگوں کے سامنے تو بہ کریں گے۔