خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 32 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 32

خطبات محمود ۳۲ سال ۱۹۳۸ وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ بیوی سے تعلق نہ رکھو یا اس سے علیحدہ رہو۔اگر لوگوں کو شریعت کے احکام کا علم ہو تو اب اگر وہ نو سو ننانوے نافرمانیاں ہزار میں سے کرتے ہیں تو پھر یقیناً ایک رہ جائے اور وہ بھی کبھی جوش کی حالت میں۔جوش کی حالت میں کسی بات کا نظر انداز ہو جانا اور بات ہے لیکن عدم علم کی وجہ سے تو کئی احکام کی تعمیل سے انسان رہ جاتا ہے مگر میں دیکھتا ہوں کہ ان امور کی طرف ہماری جماعت کے دوستوں کی کوئی توجہ نہیں۔نہ ذمہ دارا فسر توجہ کرتے ہیں ، نہ علماء، نہ مدرس اور نہ انجمن کے ناظر۔حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کی اصل غرض جو آپ کو الہام میں بتائی گئی یہی ہے کہ يُخي الدِّينَ وَيُقِيمُ الشَّرِيعَةَ کہ وہ دین کو زندہ اور شریعت کو قائم کرے گا۔پس ہمارا فرض ہے کہ شریعت جومٹ چکی ہے ، جو ہزاروں پردوں کے نیچے چھپ گئی ہے، مسلمانوں کے نہ عوام اس پر عمل پیرا ہیں اور نہ علماء بلکہ ان کا علم بھی کسی کو نہیں۔حضرت مسیح علیہ السلام نے تو کہا تھا کہ فریسی جو کہتے ہیں وہ کر و۔جو کرتے ہیں وہ نہ کرو۔مگر اب تو یہ حالت ہے کہ ہم یہ بھی نہیں کہہ سکتے اس لئے جو کہا جاتا ہے وہ بھی اسلام کے خلاف ہے اور جو کیا جاتا ہے وہ بھی خلاف۔پس ہمارا فرض ہے کہ ہزاروں تو ہمات اور رسومات کے نیچے دبے ہوئے اسلامی آثار کو پھر نکالیں۔انگریز لاکھوں من مٹی کو کھدواتے ہیں اور جب نیچے سے قدیم زمانہ کا ایک مٹی کا پیالہ بھی مل جاتا ہے تو بہت خوش ہوتے ہیں اور کی پھولے نہیں سماتے مگر ہماری تو ساری جائیدادیں ہی مٹی کے نیچے دفن ہیں۔کیا ہمیں ان کے نکالنے کی کوئی فکر نہ کرنی چاہئے؟ شریعت کے ایسے ایسے مخفی خزانے زمین کے نیچے دفن ہیں کہ جن کی تی قیمت کا کوئی اندازہ ہی نہیں ہو سکتا۔انسانی زندگی کا کوئی ایسا شعبہ نہیں جس کیلئے مفصل ہدایات موجود نہ ہوں اور جو ایسی روشن نہ ہو کہ جنہیں دیکھ کر تیز سے تیز نظر والے انسان کی آنکھیں بھی چندھیا نہ جائیں۔مگر یہ سب خزانے رسوم اور جہالتوں اور نسیان کی مٹی کے نیچے دفن ہیں اور ایک بے قیمت چیز کی طرح پڑے ہیں اور اُنہیں نکالنے کی طرف ہماری توجہ بالکل نہیں اور اس کی کام سے بالکل بے فکر ہیں۔پس میں احباب جماعت کو ان کا عہد یاد دلاتا ہوں جو جلسہ سالانہ کے موقع پر انہوں نے کیا تھا اور یہ ہدایت کرتا ہوں کہ میرے اس خطبہ کو ہر جگہ تمام دوستوں کو اکٹھا کر کے سنایا جائے