خطبات محمود (جلد 19) — Page 25
خطبات محمود ۲۵ سال ۱۹۳۸ء دوسری حکومت اس سے اچھی ہو۔قابل تعریف یہی ہے کہ اس قوم کے تمدن کا طریق یہ ہے کہ اس نے اپنی حکومت کو انفرادی معاملات میں دخل اندازی کے اختیارات نہیں دیئے۔پس اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ جس ملک میں اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کو پیدا کرنا تھا وہاں ایسی قوم حاکم ہو جو لوگوں کے معاملات میں کم سے کم دخل دینے والی ہو۔پس ج انگریزوں کی حکومت اس لئے قابلِ تعریف نہیں کہ اس کے افسر باقی سب حکومتوں سے انصاف زیادہ کرنے والے ہیں یا وہ اسلام کی تعلیم کے زیادہ قریب ہیں بلکہ اس وجہ سے ہے کہ وہ افراد کے معاملات میں بہت ہی کم دخل دیتی ہے۔ان کی خوبی مثبت قسم کی نہیں بلکہ منفی قسم کی ہے۔پس جیسا کہ میں نے جلسہ سالانہ کے موقع پر بھی دوستوں کو توجہ دلائی تھی۔انہیں چاہئے کہ ان حالات سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے وہ اسلامی تعلیم کو قائم کرنے کی کوشش کریں۔یہ خیال کر کے بیٹھ رہنا بالکل نامناسب ہے کہ اسلامی تعلیم کا قیام اسلامی حکومت کے ساتھ وابستہ ہے۔ایسی باتیں تو سو میں سے دس ہوں گی جو اسلامی حکومت سے تعلق رکھتی ہیں باقی نوے ایسی ہیں جو بغیر حکومت کے بھی قائم کی جاسکتی ہیں۔نوے پر عمل کو اُس وقت تک ترک کرنا کہ دس پر عمل کرنے کا وقت آجائے ، بیوقوفی ہے۔جو شخص دس کی خاطر نوے ضائع کر دیتا ہے اس کی مثال اس لڑکے کی ہے جسے اس کی ماں نے ایک پیسہ دیا تھا کہ بازار سے تیل خرید لاؤ۔وہ گیا ، دکاندار نے کی اپنے پیمانہ کو بھر کر اس کے کٹورے میں تیل ڈالا چونکہ کٹورا چھوٹا اور تیل کچھ زیادہ تھا اس لئے کی تیل بچ گیا اور دکاندار نے کہا کہ یہ پھر کسی وقت لے جانا مگر لڑکے نے کہا کہ پھر کون آئے گا میں ابھی لے جاتا ہوں اور اس نے اپنا برتن اُلٹا دیا اور اس کے پیندے پر جو چھوٹا سا خلا تھا اس میں باقی تیل ڈالنے کو کہا۔اُلٹا کرنے سے کٹورے کے اندر جو تیل تھا وہ تو گر گیا۔جب گھر پہنچا تو کی اس کی ماں نے کہا کہ کیا اتنا تھوڑا تیل دکاندار نے دیا ہے لڑکے نے کہا کہ نہیں ، دوسری طرف بھی ہے اور یہ کہہ کر برتن سیدھا کر دیا جس سے پیندے والا تیل بھی گر گیا۔پس ہم بھی اگر دس باتوں کیلئے نوے کو ضائع کر دیں تو ہماری مثال بھی اسی احمق کی سی ہوگی۔ہم اس لڑکے کی مثال کو سنتے اور ہنستے ہیں مگر ہم میں سے کتنے ہیں جو خود نوے کو دس کی خاطر ضائع نہیں کر رہے۔اللہ تعالیٰ نے نوے فیصدی امور ہمارے اختیار میں دے دیئے ہیں