خطبات محمود (جلد 19) — Page 249
خطبات محمود ۲۴۹ سال ۱۹۳۸ الگ الگ توجہ کے محتاج ہیں۔پس میں انہیں علیحدہ علیحدہ لیتا ہوں۔پہلا حصہ یہ ہے کہ خلیفہ وقت کی تنقید خواہ وہ تربیت کیلئے ہو یا تا دیب کیلئے یا ہدایت کیلئے وہ کی شوری کے دوسرے ممبروں کے دلوں میں تنقید کا ایسا مادہ پیدا کر دیتی ہے کہ جس کے نتیجہ میں تنقید حد سے زیادہ گزر جاتی ہے۔جو لوگ دوسرے لوگوں سے ملتے جلتے رہتے ہیں اور قسم قسم کے لوگوں سے باتیں کرنے کا موقع ملتا ہے وہ اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ میرے متعلق دونوں قسم کی شکایتیں سنی جاتی ہیں۔ایسے لوگ بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ یہ ہمیشہ ناظروں کی پیٹھ ٹھونکتے اور ان کی حفاظت کرتے ہیں جس کی وجہ سے جماعت کا نظام درست نہیں ہوسکتا۔ذرا کسی نے کسی ناظر پر اعتراض کیا تو انہوں نے فوراً اسے گرفت شروع کر دی۔اور یہ بھی اعتراض کیا جاتا ہے کہ ان کی طرف سے ناظروں کا صحیح طور پر اعزاز قائم نہیں کیا جاتا اور ایسی تنقید ان کے کام پر کی جاتی ہے جس سے وہ لوگوں کی نظروں سے گر جائیں۔ان دونوں سوالوں کی موجودگی میں یہ ماننا پڑے گا کہ صداقت بہر حال تین میں سے ایک صورت میں ہے۔یا تو کی پہلا اعتراض غلط ہو گا کہ یہ ناظروں کے مقابلہ میں جماعت کو زیادہ ڈانٹتے ہیں اور یا پھر یہ غلط ہوگا کہ جماعت کے مقابلہ میں ناظروں پر تنقید میں سختی کرتے ہیں۔یا پھر یہ کہ دونوں ہی اعتراض غلط ہوں گے۔یہ تین صورتیں ہی ممکن ہوسکتی ہیں ان کے سوا کوئی نہیں۔لیکن ان تینوں صورتوں پر غور کرنے سے قبل یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ خلیفہ کا مقام کیا ہے۔مجلس شوری ہو یا تی صدر انجمن احمدیہ، خلیفہ کا مقام بہر حال دونوں کی سرداری کا ہے۔انتظامی لحاظ سے وہ صدرا انجمن کیلئے بھی رہنما ہے اور آئین سازی و بحث کی تعیین کے لحاظ سے وہ مجلس شوری کے کی نمائندوں کیلئے بھی صدر اور رہنما کی حیثیت رکھتا ہے۔جماعت کی فوج کے اگر دو حصے تسلیم کر لئے جائیں تو وہ اِس کا بھی سردار ہے اور اُس کا بھی کمانڈر ہے اور دونوں کے نقائص کا وہ ذمہ دار ہے اور دونوں کی اصلاح اس کے ذمہ واجب ہے۔اس لحاظ سے اس کیلئے یہ نہایت کی ضروری ہے کہ جب کبھی وہ اپنے خیال میں کسی حصہ میں کوئی نقص دیکھے تو اس کی اصلاح کرے۔اپنے خیال میں میں نے اس لئے کہا ہے کہ انسان ہمیشہ غلطی کر سکتا ہے اور خلیفہ بھی غلطی کر سکتا ہے۔میں نے کبھی اس عقیدہ کا اظہار نہیں کیا اور نہ ہی یہ اسلامی عقیدہ ہے کہ ا