خطبات محمود (جلد 19) — Page 225
خطبات محمود ۲۲۵ سال ۱۹۳۸ء لوگ آزاد ہیں جس طرح چاہیں کریں۔گویا اس کا نقطہ نگاہ یہ ہے کہ اسلام کا قیام اصل غرض کی نہیں ، اصل غرض صرف یہ ہے کہ احمدی کہلایا جائے اور میرا یہ کہ اصل چیز صحیح اسلامی تعلیم کا قیام کی ہے صرف منہ سے احمدی کہلانا کوئی چیز نہیں۔اس میں طبہ نہیں کہ دنیوی نقطۂ نگاہ سے اس کا اصول صحیح سمجھا جاسکتا ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ اسلامی تعلیم کا قیام ناممکن ہے مگر میں اسے بالکل ممکن سمجھتا ہوں اور یقین رکھتا ہوں کہ یہ ہوکر رہے گا۔وہ اپنے ایمان کے مطابق بات کرتا اور مایوسی کا اظہار کرتا ہے اور میں اپنے ایمان کے مطابق امید پر قائم ہوں اور دراصل مقابلہ اس کی مایوسی اور میرے ایمان کا ہے۔ایک طرف اس کی مایوسی ہے جو کہتی ہے کہ چھوڑ دو اس کوشش کو ، اس میں کامیابی نہیں اور دوسری طرف میرا ایمان کہتا ہے کہ یہ ہو سکتا ہے اور ضرور ہو کر رہے گا اس لئے ہمیں جلدی اسے کرنے کی کوشش کرنی چاہئے تا اس کا ثواب ہمیں ہی ملے ، دوسروں کو کیوں ملے۔بعد میں آنے والوں کیلئے اللہ تعالیٰ ثواب حاصل کرنے کے اور سامان پیدا کر دے گا اور اس جدو جہد میں جسے میں شروع کرنا کی چاہتا ہوں کامیابی کیلئے بہترین وجو د نو جوان ہی ہو سکتے ہیں۔مثلاً ورثہ کو ہی لے لو۔والدین کی کی وفات کے بعد ورثہ انہی کے ہاتھ میں آنا ہے اور وہی اس کو تقسیم کرنے والے ہوں گے۔وہ اگر چاہیں تو اپنی بہنوں اور ماؤں کو حصہ دیں اور چاہیں تو نہ دیں۔قانون ان پر کوئی جبر نہیں کرتا بلکہ قانون تھوڑ اسا جبر اس رنگ میں کرتا ہے کہ وہ حصہ نہ دیں۔اگر ہمارے نوجوان اس بات کیلئے تیار ہوجائیں اور کہیں کہ خواہ ہمارے لئے کچھ بچے یا نہ بچے اور خواہ ہم غریب ہو جائیں ہم ورثہ کو اسلام کی تعلیم کے مطابق ہی تقسیم کریں گے تو ہر شخص یہ تسلیم کرے گا کہ یہ جماعت ہے جس نے اسلام کی تعلیم کو عملاً دنیا میں قائم کر دیا ہے۔پس اگر ہمارے نوجوان اصلاح کر لیں اور اقرار کر لیں کہ جس طرح بھی ہو اسلام کی تعلیم کو قائم کریں گے تو مایوس لوگ خود بخود اپنی شکست کا اقرار کر لیں گے کیونکہ جب کوئی واقعہ ہو جائے تو پھر اعتراض خود بخو دمٹ جاتے ہیں۔جو لوگ بھی خدا تعالیٰ کے دین کی مدد کرنے والے ہوں گے خدا تعالیٰ کا فیصلہ یہی ہے کہ وہی کامیاب ہوں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک شعر کرامات الصادقین میں ہے جس کا پہلا مصرعہ آپ فرماتے ہیں کہ الہامی ہے اور وہ یہ شعر ہے