خطبات محمود (جلد 19) — Page 2
خطبات محمود سال ۱۹۳۸ ء بسهولت آواز پہنچائی جاسکتی ہے اور ابھی تو ابتداء ہے۔اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس آلہ کی ترقی کہاں تک ہوگی۔بالکل ممکن ہے اس کو زیادہ وسعت دے کر ایسے ذرائع سے جو آج ہمارے علم میں بھی نہیں میلوں میل یا سینکڑوں میل تک آواز میں پہنچائی جاسکیں اور وائر لیس کے ذریعہ تو پہلے ہی ساری دنیا میں خبریں پہنچائی جاتی ہیں۔پس اب وہ دن دور نہیں کہ ایک شخص اپنی جگہ پر بیٹھا ہوا ساری دنیا میں درس و تدریس پر قادر ہو سکے گا۔ابھی ہمارے حالات ہمیں اس بات کی اجازت نہیں دیتے ، ابھی ہمارے پاس کافی سرمایہ نہیں اور ابھی علمی وقتیں بھی ہمارے راستہ میں حائل ہیں لیکن اگر یہ تمام وقتیں دُور ہو جائیں اور جس رنگ میں اللہ تعالیٰ ہمیں ترقی دے رہا ہے اور جس سُرعت سے ترقی دے رہا ہے اس کو دیکھتے ہوئے سمجھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے قریب زمانہ میں ہی تمام وقتیں دُور ہو جائیں گی۔تو بالکل ممکن ہے کہ قادیان میں قرآن اور حدیث کا درس دیا جا رہا ہو اور جاوا کے لوگ اور امریکہ کے لوگ اور انگلستان کے لوگ اور فرانس کے لوگ اور جرمن کے لوگ اور آسٹریا کے لوگ اور ہنگری کے لوگ اور عرب کے لوگ اور مصر کے لوگ اور ایران کے لوگ اور اسی طرح اور تمام ممالک کے لوگ اپنی اپنی جگہ وائرلیس کے سیٹ لئے ہوئے وہ درس سن رہے ہوں۔یہ نظارہ کیا ہی شاندار نظارہ ہوگا اور کتنے ہی عالیشان انقلاب کی یہ تمہید ہوگی کہ جس کا تصور کر کے بھی آج ہمارے دل مسرت و انبساط سے لبریز ہو جاتے ہیں۔اس کے بعد میں آج اس آلہ کے لگائے جانے کی تقریب کے موقع پر سب سے بہتر مضمون یہی سمجھتا ہوں کہ میں شرک کے متعلق کچھ بیان کروں کیونکہ یہ آلہ بھی شرک کے موجبات میں سے بعض کو توڑنے کا باعث ہے۔جو لوگ خدا تعالیٰ کی توحید کے قائل نہیں یا جو لوگ بعض اور ذرائع کو بیچ میں لانا چاہتے ہیں ، ان کے اس عقیدہ کی بنیاد اس امر پر ہے کہ ان کا دماغ یہ تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں تھا کہ ایک ہستی ایسی بھی ہے جو سب دنیا کو دیکھ رہی اور سب لوگوں کی آوازوں کو سُن رہی ہے۔پس وہ خیال کرتے تھے کہ بعض ایسے درمیانی واسطوں کی ضرورت ہے جن میں خدائی طاقتیں تقسیم ہوں اور جو اپنی اپنی جگہ اُس کی طاقتوں کو استعمال کر رہے ہوں۔اسلامی فلاسفروں نے بھی اسی مقام پر آ کر دھوکا کھایا ہے اور یورپین فلاسفر بھی اس دھوکا کا شکار ہو گئے اور اس کی بڑی وجہ یہ تھی