خطبات محمود (جلد 19) — Page 199
خطبات محمود ۱۹۹ سال ۱۹۳۸ء کرتے ، اُس سے فائدہ اُٹھاتے اور دوسروں کو بھی فائدہ پہنچاتے ہیں۔اور ایک ایسے ہوتے ہیں جو خود تو فائدہ نہیں اُٹھاتے مگر جس طرح بعض زمینوں میں پانی جمع ہو جاتا ہے اسی طرح عادت کے طور پر بعض نیک کام ان میں پائے جاتے ہیں اور اس کا گو انہیں کوئی فائدہ نہ پہنچے مگر کم از کم یہ فائدہ ضرور ہوتا ہے کہ وہ نیکی محفوظ رہتی ہے۔مثلاً اگر باپ التزام کے ساتھ سوچ سمجھ کر نماز پڑھنے کا عادی ہے اور اس کا بیٹا نماز کا تارک ہے تو پوتا بہر حال نماز کا تارک ہوگا کیونکہ اُس نے اپنے باپ کو نماز پڑھتے کبھی نہیں دیکھا ہوگا لیکن اگر بیٹا نماز تو پڑھتا ہے مگر عادتاً پڑھتا ہے، دلی ذوق و شوق کے ساتھ نماز نہیں پڑھتا تو گو وہ اس فائدہ سے محروم رہے جو حقیقی نماز پڑنے والوں کو حاصل ہوتا ہے مگر نماز اس کے بیٹوں تک ضرور پہنچ جائے گی اور ممکن ہو گا کہ وہ اگلی نسل نماز سے حقیقی فائدہ حاصل کر لے۔تو عادتاً جو نیکیاں پیدا ہو جائیں وہ بھی قوم کو فائدہ پہنچاتی ہیں اور گو عادت کی وجہ سے وہ قوم اس سے خود فائدہ نہ اٹھائے مگر وہ نیکی راستہ میں برباد نہیں ہو جاتی بلکہ اگلے لوگوں تک پہنچ جاتی ہے اور ان میں سے جو فائدہ اٹھانے کے اہل ہوں وہ فائدہ اُٹھا لیتے ہیں۔اسی لئے جب کسی قوم میں تین چار نسلیں اچھی گزر جائیں اس کے معیاری اخلاق دنیا میں قائم رہتے ہیں مٹتے نہیں اور اگر ایک دو نسلوں میں ہی کمزوری آجائے تو وہ اخلاق راستہ میں ہی فنا ہو جاتے ہیں۔پس اگر کئی اچھی نسلیں گزر جائیں اور ان میں نیکیاں عادت کے طور پر پیدا ہو جائیں تو کو کوئی زمانہ ایسا آجائے کہ وہ اصل نیکی کی روح سے محروم ہو جائے۔مگر چونکہ اس کا ظاہر باقی ہوگا اس لئے بعد میں آنے والے اس سے پھر زندگی حاصل کر سکتے ہیں کیونکہ نمونہ ان کے پاس موجود ہوگا۔تو اولادوں کی درستی اور اصلاح اور نوجوانوں کی درستی اور اصلاح اور عورتوں کی درستی اور اصلاح یہ نہایت ہی ضروری چیز ہے۔اگر دوست چاہتے ہیں کہ وہ تحریک جدید کو کا میاب بنا ئیں تو ان کے لئے ضروری ہے کہ جس طرح ہر جگہ لجنات اماءاللہ قائم ہیں اسی طرح ہر جگہ نوجوانوں کی انجمنیں قائم کریں۔قادیان میں بعض نو جوانوں کے دل میں اس قسم کا خیال پیدا ہو ا تو انہوں نے مجھ سے اجازت حاصل کرتے ہوئے ایک مجلس خدام الاحمدیہ کے نام سے قائم کر دی ہے۔چونکہ ایک حد تک کام میں ایک دوسرے کے ذوق کا ملنا بھی ضروری ہوتا ہے اس