خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 197 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 197

خطبات محمود ۱۹۷ سال ۱۹۳۸ء اپنے اندر جو اثر رکھتی ہیں وہ بہت وسیع ہوتے ہیں لیکن اگر امیر کی عقل تو تیز ہے لیکن مأمور کی نہیں ، ما مور قدم قدم پر ٹھہر جاتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے سمجھا لیجئے ایسا نہ ہو کہ مجھے کوئی غلطی لگی جائے، تو نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس امیر کی کوششیں بارآور نہیں ہوتیں اور قوم کا میابی کا پھل کھانے سے محروم رہتی ہے۔تو بہترین ذریعہ قومی ترقی کا یہ ہوتا ہے کہ ساروں کی عقل تیز کر دی جائے۔ادھر انہیں حکم ملے اور ادھر طبائع اس پر عمل کرنے کیلئے پہلے ہی تیار ہوں اور وہ کہیں کہ ہم تو پہلے ہی اس کے منتظر تھے۔حدیثوں میں ایسے بہت سے واقعات آتے ہیں کہ جب قرآنی احکام نازل ہوتے تو صحابہ کہتے ہم تو پہلے ہی ان احکام کے منتظر تھے۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ وہ فوراً عمل کی طرف متوجہ ہو جاتے اور بحث اور غلط بحث سے بچ جاتے۔پس ایسے ذرائع کو اختیار کرنا چاہئے جن سے قوم کے دماغ کی تربیت ہو اور خصوصاً نوجوانوں کے دماغ کی تربیت ہو کیونکہ زیادہ تر کاموں کی ذمہ داری آئندہ نو جوانوں پر ہی کی پڑنے والی ہوتی ہے۔اگر نو جوانوں میں بُری باتیں پیدا ہو جائیں مثلاً سکتے پن کی عادت پیدا کی ہو جائے یائستی کی عادت پیدا ہو جائے یا جھوٹ کی عادت پیدا ہو جائے تو یقیناً آج نہیں تو کل وہ قوم تباہ ہو جائے گی۔بالخصوص جھوٹ تو ایسا خطر ناک مرض ہے کہ یہ انسان کے ایمان کو جڑ سے اکھیڑ دیتا ہے۔بعض دفعہ پندرہ پندرہ سال تک ہم ایک شخص کے متعلق یہ سمجھتے رہتے ہیں کہ وہ بڑا بزرگ اور راستباز انسان ہے مگر پھر پتہ لگتا ہے کہ وہ بڑا کذاب ہے۔دیکھتا کچھ کی ہے اور بیان کچھ کرتا ہے۔مگر یہ باتیں بچپن میں ہی پیدا ہوتی ہیں۔پس نو جوانوں میں اگر اس قسم کی باتیں پیدا کر دی جائیں اور ان کے اخلاق کو صحیح رنگ میں ڈھالا جائے تو یقینا قوم کی ترقی میں بہت مدد مل سکتی ہے۔مثلاً میں نے تحریک جدید جاری کی۔اس میں اگر غور کر کے دیکھا جائے تو کامیابی عورتوں اور بچوں کی مدد کے بغیر نہیں ہوسکتی۔اگر عور تیں اور بچے ہمارے ساتھ تعاون نہ کریں تو یقیناً جماعت کا ایک حصہ اس پر عمل کرنے سے رہ جائے گا لیکن اگر عورتیں اور کی بچے اس میں شامل ہوں تو ہمارے کام میں بہت سہولت پیدا ہوسکتی ہے۔مثلاً سادے کپڑے ہیں یا زیورات کی کمی ہے یا ایک خاص عرصہ تک زیور بالکل نہ بنوانا ہے اب جب تک عورتیں اس میں شریک نہ ہوں تو یہ سکیم کس طرح چل سکتی ہے۔یا ہاتھ سے کام کرنے کی عادت ہے اس کی