خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 196 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 196

خطبات محمود ۱۹۶ سال ۱۹۳۸ء Ꮮ تو یہ کہتی ہیں کہ یہ کرو اور وہ کرو مگر قرآن یہ کہتا ہے کہ اِس لئے کرو، اس لئے کرو۔گویا وہ خالی ہی حکم نہیں دیتا بلکہ اس حکم پر عمل کرنے کی انسانی قلوب میں رغبت بھی پیدا کر دیتا ہے۔تو سمجھانا اور سمجھا کر قوم کے افراد کو ترقی کے میدان میں اپنے ساتھ لئے جانا یہ کامیابی کا ایک اہم گر ہے اور قرآن کریم نے اس پر خاص زور دیا ہے۔چنانچہ سورہ لقمان میں حضرت لقمان کی اپنے بیٹے کو مخاطب کر کے جو نصیحتیں بیان کی گئی ہیں ان میں سے ایک نصیحت یہ ہے کہ واقصة في مَشيكَ وَاغْضُضْ مِن صَوْتِكَ، ٣ے کہ تمہارے ساتھ چونکہ کمز ور لوگ بھی ہوں گے اس لئے ایسی طرز پر چلنا کہ کمزور رہ نہ جائیں۔بے شک تم آگے بڑھنے کی بھی کوشش کرو مگر اتنے تیز بھی نہ ہو جاؤ کہ کمزور طبائع بالکل رہ جائیں۔دوسرے جب بھی تم کوئی حکم دو محبت پیار اور سمجھا کر دو۔اس طرح نہ کہو کہ ہم یوں کہتے ہیں بلکہ ایسے رنگ میں بات پیش کرو کہ لوگ اسے سمجھ سکیں اور وہ کہیں کہ اس کو تسلیم کرنے میں تو ہمارا اپنا فائدہ ہے۔وَاغْضُضْ مِن صَوْتِكَ کے یہی معنے ہیں۔گویا میانہ روی اور پر حکمت کلام یہ دو چیزیں مل کر قوم میں ترقی کی رُوح پیدا کیا کرتی ہیں۔اور پُر حکمت کلام کا بہترین طریق یہ ہے کہ دوسروں میں ایسی روح پیدا کر دی جائے کہ جب انہیں کوئی حکم دیا جائے تو سننے والے کہیں کہ یہی ہماری اپنی خواہش تھی۔یہی وقت ہوتا ہے جب کسی قوم کا قدم ترقی کی طرف سرعت کے ساتھ بڑھنا شروع ہو جاتا ہے مگر جب امام کچھ کہے اور ماموم کچھ سمجھے، امیر کوئی حکم دے اور مامور اس سے کوئی مطلب لے اور سمجھنے اور سمجھانے کی کشمکش جاری رہے۔وہ حکم دے اور یہ کہے کہ مجھے پہلے اس کی غرض اور اس کا فائدہ سمجھا دیجئے اور جب سمجھایا جائے تو کہے میری سمجھ میں نہیں آیا۔تو ایسی صورت میں کبھی بھی قومی ترقی نہیں ہوتی۔لیکن جب امیر اور مامور کے آپس میں ایسے تعلقات ہوں یا تربیت دماغی کی ایسے رنگ میں ہو چکی ہو کہ امیر جب کوئی حکم دے تو سب لوگ یہ سمجھیں کہ اس میں ہمارا فائدہ ہے اور یہی ہماری خواہش تھی ، تو اُس وقت یقینا وہ ترقی کر جاتی ہے۔ہمارے ملک میں مثل ہے کہ سو سیانے اگو مت۔یعنی اگر سو عظمند ہوں تو وہ سب ایک ہے بات پر متفق ہوں گے۔یہ نہیں ہوگا کہ کوئی کچھ کہے اور کوئی کچھ۔اسی طرح اگر ہم ساری جماعت کو عقلمند بنادیں تو سب کی ایک ہی رائے ہو اور متحدہ عزم، متحدہ ارادے اور متحدہ کوششیں