خطبات محمود (جلد 19) — Page 176
خطبات محمود سال ۱۹۳۸ء جو ہماری تلاش کرتے ہیں اور سچے دل سے ہماری جستجو میں لگ جاتے ہیں، ہم اپنی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ ہم انہیں ضرور سیدھا راستہ دکھا دیتے ہیں۔اس میں کسی مذہب کی شرط نہیں ،۔چاہے کوئی کی ہندو ہو یا عیسائی ہو یا سکھ ہو۔اگر کسی شخص کے دل میں بچے طور پر یہ تڑپ پائی جاتی ہے کہ اسے خدامل جائے تو اسے خدا ضرور مل جاتا ہے اور عجیب عجیب رنگ میں وہ اس کی ہدایت کے سامان کر دیتا ہے۔میں نے دیکھا ہے ہر سال کبھی کم اور کبھی زیادہ لیکن بہر حال اوسطاً آٹھ دس ایسے غیر احمدیوں کی چٹھیاں مجھے آجاتی ہیں جو لکھتے ہیں کہ ہم پہلے احمدیت کے شدید مخالف تھے مگر اللہ تعالیٰ نے رؤیا کے ذریعہ ہمیں بتایا کہ احمدیت کچی ہے اس لئے ہم تو بہ کرتے ہوئے احمدیت میں داخل ہوتے ہیں۔ابھی چند دن کی بات ہے ایک شخص کی چٹھی مجھے آئی ، وہ لکھتے ہیں کہ میں سلسلہ کا شدید مخالف تھا اور گندی سے گندی گالیاں احمدیوں کو دیا کرتا تھا مگر اب مجھے رویا میں کی بتایا گیا ہے کہ میں غلطی پر ہوں اس لئے میں سخت ڈرتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ سلسلہ کے مزید جو۔حالات معلوم کروں۔تو جو شخص سچے طور پر مخالفت بھی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اُس کی ہدایت کے سامان پیدا کر دیتا ہے مگر شرط یہی ہے کہ سنجیدگی پائی جائے اور تمام کام اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کیلئے کئے جائیں۔اگر کوئی سنجیدگی سے اللہ تعالیٰ کو پکارے تو یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ ظلمت میں رہے۔خدا ایک نور ہے اور جب وہ مل جاتا ہے تو ظلمت کہیں نہیں رہتی۔پس ہماری جماعت کو اپنے اند ر سنجیدگی پیدا کرنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں کھول کھول کر بیان فرمایا ہے کہ ہر وہ قوم جو یہ بجھتی ہے کہ ہدایت اور نجات ہمارے ساتھ ہی وابستہ ہے، اس کی سچائی کی ایک ہی علامت ہوتی ہے اور وہ یہ کہ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتُ إِن كُنتُمْ صدقين کے وہ اگر اپنے دعوئی میں بچی ہوتی ہیں تو اپنے اوپر موت وارد کر لیتی ہیں۔جب دنیا میں ایسے نبی آتے ہیں جن کے ہاتھوں میں تلوار ہوتی ہے تو اس زمانہ میں موت کا یہ مطلب ہے کہ اُٹھو اور اپنی جانیں لڑائیوں میں قربان کر دو۔مگر جب ایسے نبی آئیں جو تبلیغ کے ذریعہ اپنا مذہب پھیلاتے ہیں جیسے حضرت عیسی علیہ السلام ہیں یا حضرت مسیح موعود علیہ السلام تو اُس وقت موت سے مراد مختلف قسم کی قربانیاں ہوتی ہیں۔جیسے مالی قربانیاں ہیں یا وقتی قربانیاں