خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 129 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 129

خطبات محمود ۱۲۹ سال ۱۹۳۸ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم کے خلاف جیسا کہ اسے میں سمجھتا ہوں ، چاہتے ہیں کہ تشدد اور سختی سے دشمن کا مقابلہ کریں وہ خدا اور اس کے رسول کی نافرمانی کرنے والے ہیں۔انبیاء کی جماعتیں اسی صورت میں کامیاب ہوا کرتی ہیں جب وہ وہی طریق اختیار کریں جو خدا نے ان کیلئے مقرر کیا ہے اور جو یہ ہے کہ وہ ماریں کھائیں اور چپ رہیں۔اس قسم کے تمام فقرات انہوں نے کاٹ دیئے اور دوسرے نامکمل فقرے لے کر شور مچا دیا کہ انہوں نے ہمارے متعلق اپنی جماعت کو کہا ہے کہ انہیں مارو۔اسی طرح اس خطبہ میں بھی میرا ایک فقرہ ہے اور کئی دوسرے خطبات میں بھی وہ فقرہ آتا ہے کہ دیکھو تم میں سے کئی ہیں جو معمولی باتوں پر اظہار غضب کرتے ہیں۔میں کس طرح مان لوں کہ وہ غیر تمند ہیں۔اگر وہ سچے ہیں تو دوسروں کی کو کیوں جوش دلاتے ہیں، خود انہیں کوئی غیرت نہیں آتی اور وہ اسلام پر اپنی آنکھوں سے دشمن کی طرف سے حملے ہوتے دیکھتے ہیں اور گھروں میں خاموش بیٹھے رہتے ہیں۔اب اس کا بھی یہ مطلب نہیں ہوتا کہ جاؤ اور دشمن سے لڑو بلکہ مطلب یہ ہوتا ہے کہ تم جماعت میں جوش پیدا کرتے ہو اور کہتے ہو کہ ہم اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ سکتے۔یہ جھوٹ ہے اگر ایسا ہوتا تو دوسروں کو جوش نہ دلاتے خود اپنے عقیدہ کے مطابق لوگوں سے لڑتے۔مگر انہوں نے اس فقرہ کا بھی یہ مفہوم لے لیا کہ گویا میں نے لوگوں سے یہ کہا ہے کہ تم لڑتے کیوں نہیں اور ی بے غیرت بن کر کیوں بیٹھے ہو۔غرض کوئی فقرہ اس کالم سے اور کوئی اُس کالم سے ، کوئی اس کی صفحہ سے اور کوئی دو چار صفحے چھوڑ کر اگلے صفحہ سے انہوں نے لے لیا اور اس طرح لا تَقْرَبُوا الصلوۃ والے فقرہ کی طرح انہوں نے بھی ایک مضمون تیار کر لیا۔حالانکہ بعض جگہ میں نے اپنی بات نہیں بیان کی بلکہ دنیا کا عام طریق یا دشمن کا مقولہ بیان کیا ہے اور اگر اس کی طرح استدلال کرنا درست ہو تو قرآن کریم میں حضرت نوح علیہ السلام نے جو یہ فرمایا ہے کہ اے خدا! دشمنوں کے عمائد ایک دوسرے کو کہتے ہیں کہ تم ود، سواع، یغوث ، یعوق اور نسر کومت چھوڑو اور ان کی پرستش کئے چلے جاؤ۔نے اس کے ابتدائی الفاظ کو جن میں یہ بات کفار کے عمائد کی طرف منسوب کی گئی ہے حذف کر کے کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ حضرت نوح نَعُوذُ بِالله مشرک ہے۔کیونکہ وہ کہتے ہیں ؤد اور سواع اور دوسرے معبودانِ باطلہ کی پرستش مت چھوڑو۔مگر کیا