خطبات محمود (جلد 18) — Page 649
خطبات محمود ۶۴۹ سال ۱۹۳۷ء نہیں۔خلیفہ کی طرف سے مقرر کردہ لوگوں کا حکم بھی اسی طرح ماننا ضروری ہوتا ہے جس طرح خلیفہ کا۔کیونکہ خلیفہ تو براہ راست ہر ایک شخص تک اپنی آواز نہیں پہنچا سکتا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم۔فرمایا ہے کہ مَنْ أَطَاعَ اَمِيْرِى فَقَدْ اَطَاعَنِى وَ مَنْ عَصَى اَمِيْرِى فَقَدْ عَصَانِی - جس نے میرے مقرر کردہ افسر کی اطاعت کی اس نے گویا میری اطاعت کی اور جس نے میرے مقرر کر وہ افسر کی نافرمانی کی ، اس نے گویا میری نافرمانی کی۔ایسا خلیفہ کون سا ہو سکتا ہے جو تمام افراد تک براہِ راست اپنی آواز پہنچا سکے۔ایسا تو نبی بھی نہیں کر سکتا۔بلکہ خدا تعالیٰ گو اس پر قادر ہے مگر عملاً ہر ایک تک اپنی آواز نہیں پہنچا تا۔اس قسم کی باتیں کرنے والوں کے اندر بھی وہی روح ہوتی ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے ظاہر کی تھی اور کہا تھا کہ اگر خدا ہم سے کہے تو ہم مانیں گے۔خدا تو ایسا کر سکتا ہے مگر کرتا نہیں لیکن خلیفہ تو کر ہی نہیں سکتا۔پس جب خدا جو کر سکتا ہے وہ ایسا نہیں کرتا اور جو کر ہی نہیں سکتا وہ کس طرح کرے۔خدا تعالیٰ کے نہ کر سکنے کا سوال نہیں بلکہ حکمت کا سوال ہے۔مگر خلفاء تو نہ ایسا کر سکتے ہیں اور نہ ای ہی حکمت ایسا کرنے کی اجازت دیتی ہے۔سوائے اس کے کہ ملانوں کی طرح پانچ سات طالب علم نے کر بیٹھ جائے۔اس لئے ضروری ہے کہ خلیفہ کے ماتحت افسر ہوں جن کی اطاعت اُسی کی طرح کی کی جائے۔پس وہی نوجوان اپنے آپ کو پیش کریں جو اس بات پر آمادہ ہوں کہ کامل اطاعت اور فرمانبرداری کا نمونہ دکھا ئیں گے، عقل سے کام لیں گے، تیسرے محنت کر سکتے ہوں چوتھے اخلاص۔کام کرنے والے ہوں اور پانچویں قابلیت رکھتے ہوں۔ان اوصاف کے ساتھ ہی یہ وقف مفید ہو سکتے ہیں۔قابلیت اور اطاعت کے بغیر کوئی کام نہیں ہو سکتا۔اور اگر اخلاص نہ ہو تو بھی انسان ایسے ایسے کی اعتراض کرتا رہتا ہے کہ بجائے مفید ہونے کے نقصان کا موجب ہو جاتا ہے۔پھر محنت بھی ضروری ہے۔جو شخص محنت نہیں کرتا اس کے ہاتھ سے کئی چیزیں چھوٹ جاتی ہیں اور کئی سوراخ ایسے رہ جاتے ہیں جن کی سے خرابی پیدا ہو جاتی ہے۔جیسے کوئی شخص کنویس کی چادر میں پانی ڈال لے تو اگر تو اس کے چاروں کونوں کو پکڑ کر رکھے تو وہ محفوظ رہے گا لیکن اگر ایک بھی چھوٹ جائے تو پانی گر جائے گا۔پھر عقل بھی ضروری ہے۔اگر عقل نہ ہو تو علم اور اخلاص بھی کام نہیں دے سکتا۔بعض احادیث میں آتا ہے کہ رسول کریم ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ زاہد بہتر ہے یا عاقل ؟ آپ نے فرمایا عاقل کئی گنا زیادہ بہتر ہے۔کیونکہ زاہد تو صرف اپنی ذات کو ہی فائدہ پہنچاتا ہے مگر عاقل