خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 629 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 629

خطبات محمود ۶۲۹ سال ۱۹۳۷ء ساتھیوں سے کہا کہ خدا نے مجھے بھی آنکھیں دی ہوئی ہیں بجائے ان کو دھکیلنے کے ہم خود راستہ کاٹ کر ایک طرف سے کیوں نہیں گزر سکتے۔تو کمزور پر زور جتانے کی لعنت ایسی ہمارے ملک میں ہے جو کسی ح دور ہونے میں نہیں آتی۔حالانکہ کمزور کے آگے کمزور بننا چاہئے اور طاقتور کے آگے طاقتور۔اگر کوئی شخص جابر اور ظالم ہے تو اس کے مقابلہ میں ہمیں بیشک اپنی طاقت دکھانی چاہئے لیکن اگر کوئی کمزور ہے تو وہاں طاقت دکھانے کی بجائے ہمارے لئے یہ حکم ہے کہ ہم نرم بنیں۔عورتیں جب بازار یا گلیوں میں پھرتی ہیں تو شریعت کا ان کے متعلق یہ حکم ہے کہ وہ پردہ کریں۔لیکن ہم کھلے منہ پھر رہے ہوتے ہیں۔ان حالات میں یہ کتنا بڑا ظلم ہے کہ عورتوں پر سختی کی جائے اور انہیں راستہ سے ہٹایا جائے۔پس جلسہ سالانہ کے ایام میں اگر دوست اس امر کی نگرانی کریں کہ بھولے بھٹکے مہمان ٹھوکریں نہ کھاتے پھریں تو یہ بھی ایک خدمت ہوگی۔اور اگر اس امر کا خیال رکھیں کہ راستوں میں مرد ایک طرف اور قطار بنا کر چلیں تا عورتوں کو چلنے میں تکلیف نہ ہو تو یہ بھی ایک ثواب والی خدمت ہوگی۔بلکہ بہتر ہے کہ اس دفعہ یہ انتظام کیا جائے کہ گلیوں اور راستوں پر ایک طرف مردوں کے چلنے کیلئے مخصوص کر دی جائے تو دوسری طرف عورتوں کیلئے۔اور چلنے پھرنے والے مردوں کو سمجھاتے رہیں کہ وہ ایک طرف چلیں اور بجائے اس کے کہ وہ عورتوں سے یہ امید کریں کہ وہ ان کا راستہ نہ روکیں خود ایک طرف ہو جائیں۔عورتوں کو بھی بیشک اُن کی جہت بتادی جائے مگر مردوں کیلئے بھی ایک جہت مخصوص کر دی کی جائے۔اس طرح میں سمجھتا ہوں آمد و رفت میں بہت کچھ آرام اور سہولت ہو جائے گی۔انگریزوں نے یہ کیا ہوا ہے کہ وہ ایک رستہ سے جاتے اور دوسرے رستہ سے واپس آتے ہیں۔ہمارے ہاں چونکہ پر دے کا طریق رائج ہے اور عورتوں کو پردہ میں ہی لیکچروں کیلئے آنا جانا پڑتا ہے اس لئے میرے نزدیک جب تک ہماری سڑکیں کافی چوڑی اور فراخ نہیں ہو جاتیں اُس وقت تک اسی طریق پر عمل کرنا بہتر ہے جو میں نے بتایا ہے کہ ایک طرف مردوں کیلئے مخصوص کر دی جائے اور دوسری طرف عورتوں کیلئے۔ہاں جو انگریزوں کا طریق ہے کہ آنے جانے کیلئے بھی الگ الگ جہات ہوں اس میں یہ فائدہ ہے کہ اس طرح وقت بہت حد تک بچ جاتا ہے۔لیکن جب تک وہ وقت نہیں آتا کہ سڑکیں اس قدر چوڑی ہوں کہ ان کے چار حصے کر کے مردوں اور عورتوں کے آنے اور جانے والے راستے الگ الگ کر دیئے جائیں س وقت تک مردوں اور عورتوں کیلئے الگ الگ اطراف مخصوص کر دی جائیں اور مرد اس کی نگرانی