خطبات محمود (جلد 18) — Page 604
خطبات محمود ۶۰۴ سال ۱۹۳۷ء داخل کر دینے کی گنجائش ہے۔اور اگر اتنے آدمی سارے ملک میں پھیل جائیں تو ہمیں پچیس سال میں سا را ملک احمدی ہو سکتا ہے اور یہ سکیم ایسی ہے کہ اسے جتنا بھی پھیلایا جائے اتنی ہی کامیابی ہوسکتی ہے۔اس کے علاوہ یتیموں اور بیواؤں کی پرورش کا سوال بھی میرے سامنے ہے اور یہ بہت بڑ۔ثواب کا کام ہے۔اور اس طرح وہ طبقہ جو عام طور پر نظر انداز ہوتا ہے ، وہ نمایاں طور پر آگے آسکتا ہے اور ایسے لوگ دین کے خادم بننے کے علاوہ اپنی روزی بھی کما سکتے ہیں۔مگر یہ کام ایسے ہیں کہ جن پر مبلغین کی تیاری سے زیادہ خرچ آتا ہے۔کیونکہ اول تو پیشہ ور اُستاد بہت مشکل سے ملتے ہیں اور پھر یہ کام سکھانے کیلئے بہت سا سامان ضائع کرنا پڑتا ہے۔اس لئے جب تک اس سکیم کو ایسا مکمل نہ کر لیا جائے کہ یا اپنا بوجھ خود اٹھا لے اُس وقت تک کامیابی مشکل ہے۔شروع میں اس سکول میں نو طالب علم لئے کی گئے تھے اور میرا خیال تھا کہ ہر سہ ماہی پر ہم مزید نوٹ کے لیتے جائیں گے اور اگر مزید کامیابی ہوتی تو اس کی وقت اتنی طالب علم ہوتے۔مگر اس وقت ہیں صرف ہیں۔اور اس کی وجہ یہ ہے کہ مجھے جو مشورہ دیا گیا تھا۔وہ صحیح نہ تھا اور جتنے عرصہ میں مجھے بتایا گیا تھا کہ یہ لڑ کے اپنی روزی کمانے کے قابل ہوسکیں گے وہ غلط تھا۔کیونکہ وہ لڑکے ابھی تک بھی اپنی روزی کمانے کے قابل نہیں ہو سکے۔دراصل اس قابل ہونے کیلئے تین چار سال درکار ہیں۔اور یہ طالب علم جوں جوں کام سیکھتے جائیں گے ، اپنی روزی کمانے کے قابل ہوتے جائیں گے اور اس طرح بیواؤں اور یتیموں کا سوال خود بخود حل ہوتا جائے گا اور مبلغ بھی تیار ہوتے جائیں گے۔ان سب باتوں پر غور کر کے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ اس سکیم کو کم سے کم سات سال تک ممتد کیہ جائے۔اور اس عرصہ میں ہم کوشش کریں کہ یہ کام اپنا بوجھ آپ اُٹھا سکیں اور یہ ایک ایسی بات ہے کہ اگر ہم اس میں کامیاب ہو جائیں تو یہ ہمارا اتنا بڑا کارنامہ ہوگا کہ جس کی کوئی مثال موجودہ زمانہ میں نہیں ملی سکے گی۔اس میں شک نہیں کہ دیال باغ وغیرہ میں ایسی سکیمیں کامیاب ہو چکی ہیں مگر وہ کوششیں صرف ایک گاؤں کے متعلق ہیں اور ان پر لاکھوں روپیہ خرچ ہو رہا ہے۔مگر ہم نے ساری دنیا میں مبلغ بھیجنے ہیں۔ایک گاؤں کی اصلاح کرنا اور بات ہے اور ساری دنیا میں مبلغین کا پھیلانا اور اس کی مثال ایسی ہے ہے کہ کوئی شخص کہے کہ دیکھوں فلاں عورت تو اپنے گھر میں بڑے اطمینان کے ساتھ روٹیاں پکا لیتی ہے اور تم جلسہ سالانہ پر روٹیوں کے انتظامات کیلئے اس قدر گھبراہٹ کا اظہار کرتے ہو۔آگرہ کے پاس ایک