خطبات محمود (جلد 18) — Page 588
خطبات محمود ۵۸۸ سال ۱۹۳۷ء اسی قدر زیادہ وہ اللہ تعالیٰ کے انعامات کا مستحق ہوتا ہے۔پس میں ان سے بھی جو زیادہ چندہ دے سکتے ہیں کہتا ہوں کہ نیکیوں کا میدان وسیع ہے آؤ اور آگے بڑھو۔اور جو شخص چندہ نہیں دینا چاہتا اسے میں یہ کہتا ہووں کہ اگر تم چندہ نہیں دینا چاہتے تو مت دو اور وعدہ بھی مت لکھوا ؤ ایسا نہ ہو کہ تم گنہ گار ٹھہر و۔لیکن اگر کوئی شخص قربانی کا ارادہ رکھتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ خواہ مجھے تنگی سے گزارہ کرنا پڑے میں چندہ ضرور ادا کروں گا۔تو میں اسے کہتا ہوں کہ تم کم سے کم اس قدر قربانی کرو جس قد رتم نے پہلے سال کی تھی اور انہی اصول پر کرو جو پہلے سال میں نے بتائے تھے۔یعنی دو دو چار چار روپے نہیں بلکہ کم از کم پانچ روپے اس تحریک میں دیئے جائیں۔پھر دس پھر میں پھر تمیں پھر ساتھ پھر سو پھر دوسو پھر تین سو اور جو اس سے بھی زیادہ دے سکتا ہے وہ اس سے زیادہ دے۔مگر جو شخص اتنا چندہ نہیں دے سکتا جتنا اس نے پہلے سال دیا تھا تو اگر جس قدر رقم اس نے دی تھی اس سے کم تر کسی اور رقم کی اجازت ہے تو وہ اپنے حالات کے مطابق اس سے کم چندہ دے دے۔مثلاً اگر کسی نے پہلے سال تمیں روپے دیئے اور اس سال وہ اتنے نہیں دے سکتا تو وہ ہیں دے سکتا ہے۔اور اگر کسی نے ہمیں دیئے تھے اور اس سال وہ اتنے روپے نہیں دے سکتا تو اس کیلئے بھی گنجائش ہے وہ دس دے سکتا ہے۔اور اگر کوئی شخص جس نے پہلے سال دس روپے دیئے تھے اس سال دس دینے کی بھی طاقت نہیں رکھتا تو پانچ دے۔لیکن چونکہ یہ آخری حد ہے اس لئے اگر کوئی شخص ایسا ہو جس نے پہلے سال پانچ روپے دیئے تھے اور اس سال وہ پانچ بھی نہیں دے سکتا تو پھر وہ اس تحریک میں حصہ نہ لے کیونکہ پانچ سے کم کوئی رقم اس تحریک میں قبول نہیں کی جاتی۔پس جو شخص دے سکتا ہے وہ انہی اصول پر دے جو میں مقرر کر چکا ہوں۔سوائے اس کے کہ وہ اس سے زیادہ دینا چاہتا ہو۔مثلا کو ئی شخص تین سو کی بجائے ہزار دو ہزار یا تین ہزار دینا چاہے تو شوق سے دے۔اللہ تعالیٰ کے فضل غیر محدود ہیں اور اس کے پاس جس طرح تین سو روپیہ چندہ دینے والے کیلئے جزا ہے اسی طرح اس کے پاس تین ہزار روپیہ چندہ دینے والے کیلئے بھی جزا ہے۔اسی طرح اگر کوئی شخص پانچ ہزار روپیہ چندہ دینا چاہے تو وہ پانچ ہزار دے اور سمجھ لے کہ خدا تعالیٰ پانچ ہزار روپیہ چندہ کی بھی جزا دے سکتا ہے اور اس کی طرف سے قربانی کے مطابق ثواب ملتا ہے۔جو شخص دو ہزار روپے دے سکتا ہے مگر وہ تین سو دیتا ہے اسے وہ ثواب ہر گز نہیں مل سکتا جو اس شخص کو ملے گا جو پانچ روپے دینے کی توفیق رکھتا تھا اور اس نے پانچ روپے ہی دیئے۔کیونکہ دو ہزار دینے کی توفیق رکھنے والا جب تین سو روپیہ دیتا ہے تو وہ اپنی