خطبات محمود (جلد 18) — Page 587
خطبات محمود ۵۸۷ سال ۱۹۳۷ء مرتکب ہوتے ہیں۔ہزاروں احمدی ایسے ہیں جنہوں نے اس تحریک میں حصہ نہیں لیا لیکن اُن پر میرا کوئی گلا نہیں۔مجھے شکایت ان سے ہے جو اپنے نام لکھوا کر پھر پیچھے ہٹے اور انہوں نے وقت کے اندر چندہ ادا نہ کیا۔میں نے ان کی سہولت کیلئے یہ اعلان بھی کر دیا تھا کہ اگر کوئی شخص دیکھتا ہے کہ اس کے حالات ایسے ہیں کہ وہ چندہ ادا کرنے کی بالکل طاقت نہیں رکتھا مگر نام لکھا چکا ہے تو وہ اپنی میعاد میں اضافہ کرالے یا تی مجھ سے معافی لے لے۔میں اُس کا چندہ معاف کرنے کیلئے تیار ہوں۔اس طرح وہ خدا کے حضور مجرم نہیں بنے گا۔کیونکہ خدا کہے گا کہ جب میرے نمائندہ نے تجھے معاف کر دیا تو میں نے بھی تجھے معاف کر دیا۔خدارو پے کو نہیں دیکھتا بلکہ وہ سچائی کو دیکھتا ہے۔اگر تم ایک عیسائی سے کوئی وعدہ کرتے ہو تو اُس وقت عیسائی اس کا نمائندہ ہے اور تمہارا فرض ہے کہ اُس وعدے کو پورا کرو۔اور گر تم ایک یہودی سے کوئی وعدہ کرتے ہو تو اُس وقت یہودی اُس کا نمائندہ ہے اور تمہارا فرض ہے کہ اس وعدے کو پورا کرو۔کیونکہ جس سے وعدہ ہو گیا اس کے اور وعدہ کرنے والے کے درمیان خدا آجاتا ہے۔پس وعدہ کو پورا کرنا نہایت ضروری ہوتا ہے۔اور جب میں نے ان لوگوں کیلئے جو سخت مالی مشکلات میں مبتلا ہوں یہ صورت پیدا کر دی تھی تو انہیں چاہئے تھا کہ وہ اس سے فائدہ اُٹھاتے اور خدا تعالیٰ کے گنہ گار نہ بنتے۔مگر کئی کی دوست ایسے ہیں جنہوں نے اس سے بھی فائدہ نہیں اُٹھایا۔میں نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر وقت کے اندر بھی ادا نہیں کر سکتے تو مہلتیں لے لو۔چنانچہ بعض نے مزید مہلت لے لی مگر بعضوں نے مُہلت بھی نہیں لی ، چندہ معاف بھی نہیں کرایا اور وقت کے اندر بھی ادا نہیں کیا۔گویا انہیں یہ شوق تھا کہ ہم ضرور گنہ گار بنیں گے اور کسی رعایت سے فائدہ نہیں اُٹھا ئیں گے۔اب بھی میں یہی کہتا ہوں کہ جو شخص یہ چندہ دے سکتا ہے دے اور جو نہیں دے سکتا وہ نہ دے اور اگر کوئی شخص ایسا ہے جو اپنے پہلے چندوں سے بھی زیادہ چندہ دینا چاہتا ہے تو میں اسے بھی نہیں روکتا۔میرے مخاطب صرف وہ لوگ ہیں جو چندہ دے سکتے ہیں اور دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔چنانچہ گوا بھی تحریک نہیں کی گئی تھی مگر اس وقت تک چار پانچ وعدے میرے پاس آچکے ہیں اور وہ ان کے پہلے وعدوں سے زیادہ ہیں۔ان میں سے ایک چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کا وعدہ ہے اور دوسرا ڈاکٹر شاہ نواز خان صاحب افریقہ کا۔خود میرا ارادہ بھی ہے پہلے تین کی سالوں سے زیادہ چندہ دینے کا۔اسی طرح اور بھی بعض دوستوں کے وعدے آچکے ہیں۔پس جو لوگ زیادہ دے سکتے ہیں ان کو میں نہیں روکتا۔جو شخص نیکی کے میدان میں جس قدر زیادہ قدم بڑھاتا ہے