خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 509 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 509

خطبات محمود سال ۱۹۳۷ء وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمُ يَرْشُدُونَ ے کہ رمضان کے ایام ایسے مبارک ہیں کہ ان دنوں کی عبادتوں کے لے جب میرے بندے میرے متعلق سوال کریں تو تو انہیں کہہ دے کہ میں بالکل قریب ہوں۔جِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ جب مجھے کوئی پکارنے والا پکارتا ہے تو میں اس کی دعا کو قبول کرتا ہوں۔گویا رمضان کی راتیں دعاؤں کی قبولیت کیلئے خاص ہیں اور جمعہ کے دن دعاؤں کی قبولیت کیلئے مخصوص ہیں۔جس کے معنے یہ ہوئے کہ رمضان کے مہینہ میں جو جمعہ آتا ہے وہ ایسا با برکت ہوتا ہے کہ نہ صرف اس دن کی دعائیں قبول ہوتی ہیں بلکہ اس رات کی دعائیں بھی قبول ہوتی ہیں۔دوسرے جمعوں میں صرف دن کے وقت دعاؤں کی قبولیت کی بشارت ہے اور رمضان میں سے صرف رمضان کی راتوں میں قبولیت دعا کا ارشاد ہے مگر جب جمعہ اور رمضان اکٹھے ہو جائیں تو ایک ارشاد کے ماتحت دن کو دعائیں سنی جاتی ہیں اور دوسرے ارشاد کے ماتحت رات کو دعائیں سنی جاتی ہیں۔پس ان دنوں سے فائدہ اُٹھانا چاہئے اور جیسا کہ ہمارے ملک میں عام رواج ہے کہ جب لوگ کسی کو خط لکھتے ہیں تو اس میں اپنے متعلق خاکسار، نابکار ، شرمسار، گنہگار یا حقیر، ناچیز اور بندہ ذلیل وغیرہ الفاظ لکھتے ہیں۔یا بات بھی کرتے ہیں تو کہتے ہیں میں تو کیا ہوں خاک پا ہوں۔سو ہماری ان منکسرا نہ دعا میں اگر ذرہ بھر بھی حقیقت پائی جاتی ہوئی تو اس کے یہ معنے ہیں کہ ہمیں پوری طرح اپنی کمزوریوں کا اقرار اور اپنی غلطیوں کا اعتراف ہے اور اگر ہم اپنی غلطیوں کا اعتراف اور اپنی کمزوریوں کا اقرار کرتے ہوں تو اس میں کیا شبہ ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور اس عظیم الشان مقصد کیلئے جو ہمارے جیسے کمزور آدمیوں کے سپرد کیا گیا ہے ہمارے لئے دعا ئیں کرنا نہایت ضروری ہے اور کوئی راستباز اسے نظر انداز نہیں کرسکتا۔اگر ہم واقعہ میں کمزور اور نا تو اں ہیں اور اگر واقعہ میں وہ کام جو ہمارے سپرد کیا گیا نہایت ہی اہم اور مشکل ہے تو سوال یہ ہے کہ ایسا کام ہم سے کس طرح سرانجام دیا جا سکتا ہے۔ادھر یہ کام اپنے اتمام کیلئے ایک بہت بڑی طاقت چاہتا ہے اور ادھر ہم سخت کمزور اور ناتواں ہیں۔ان حالات میں دو باتوں میں سے ایک بات ضرور تسلیم کرنی پڑے گی۔(1) یا تو ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ ہمارے ان دونوں دعووں میں سے ایک دعویٰ غلط ہے۔یعنی یا تو ہمارا انکسار کا دعویٰ غلط ہے اور یا ہمارا یہ دعویٰ غلط ہے کہ یہ کام بہت مشکل (۲) اگر ہمارے یہ دونوں دعوے صحیح ہوں اور ایک بھی ان میں سے غلط نہ ہو تو پھر ہمیں یہ