خطبات محمود (جلد 18) — Page 48
خطبات محمود ۴۸ سال ۱۹۳۷ء ہے۔مگر جاننے والے جانتے ہیں کہ وہ تین سو آدمی کی لڑائی دنیا کی قسمت کا فیصلہ کرنے والی لڑائی تھی۔وہی تین سو بڑھ کر ہزار ہو گئے اور ہزار بڑھ کر دو ہزار ہو گئے اور دو ہزار بڑھ کر دس ہزار ہو گئے اور دس ہزار بڑھ کر ہیں ہزار ہو گئے اور میں ہزار بڑھ کر ایک لاکھ ہو گئے اور ایک لاکھ پھر کروڑوں کروڑ بن کر ساری دنیا پر چھا گئے۔اس کے دشمنوں کی مثال اُس پھیلے ہوئے بادل کی سی تھی جو سارے اُفق پر پھیلا کی ہوا ہو لیکن جس کا پانی نکل چکا ہو سب دنیا پر اس نے سایہ تو کیا ہوا ہوتا ہے مگر برسنے کی قابلیت اس میں نہیں ہوتی۔اور اس چھوٹے سے لشکر کی مثال اس چھوٹی سی کالی بدلی کی سی تھی جو شدید گرمی اور دیر تک بارش نہ ہونے کے بعد صبح ہی صبح اُفق پر اُٹھتی ہے۔بظاہر وہ چند گز کا ٹکڑا نظر آتا ہے لیکن پانچ دس منٹ کے اندراندر اس طرح آسمان پر پھیل جاتا ہے کہ تمام دنیا پر سایہ کرنے کے بعد روئے زمین کو پانی سے بھر دیتا ہے۔وہ پہلا بادل جو تمام دنیا پر چھایا ہو الیکن پانی سے خالی تھا۔ہوائیں آتیں اور اُسے اُڑا کر لے جاتی تھیں۔لیکن دوسری چھوٹی سی بدلی جو ایک کونے سے اٹھتی ہوئی نظر آتی ہے اور انسان سمجھتا ہے کہ یہ کچھ نہیں کر سکتی ، سارے عالم کو ڈھانک لیتی ہے اور تھوڑے ہی عرصہ میں زمین کو جل تھل کر دیتی ہے۔یہی حالت ہماری ہے بعض نادان ہم پر ہنستے ہیں اور کہتے ہیں کہ " کیا پدی اور کیا پدی کا ی شور بہ۔یہ دنیا میں کیسی ایک قوم اُٹھ کھڑی ہوئی ہے اور بعض اپنے بیوقوف بھی حیران ہوتے ہیں کہ ہم کو بھلا دنیا کی فتوحات سے کیا تعلق۔حالانکہ ہمارے اندر کوئی ذرہ بھی ایمان کا باقی ہو تو ہم سمجھ سکتے ہیں کہ کی فتوحات کا تعلق ہم سے ہی ہے۔جنہیں خدا تعالیٰ نے یہ کہا ہو کہ ہم تمہیں فتوحات دیں گے ان کا اگر فتوحات سے تعلق نہ ہوگا تو اور کس کا ہوگا۔جس قوم کے متعلق اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہو کہ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا ! جس کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہو کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے ،ہے جس قوم کے متعلق اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہو کہ وہ دنیا پر چھا جائے گی اور باقی قو میں اُس کے مقابلہ میں بالکل چھوٹی چھوٹی رہ جائیں گی۔اُس کے حو صلے اور اُس کی ہمتیں کتنی بلند ہونی چاہئیں، اُس کی قربانیاں کتنی بڑھی ہوئی ہونی چاہئیں اور اُس کا ایثار کتنا زیادہ ہونا چاہئے۔دوسری قو میں جب قربانی کرتی ہیں تو وہ جانتی ہیں کہ ان کا مرنے والا سپاہی ان کی قوم کے کام نہیں آیا۔مگر جس قوم کیلئے فتح و نصرت خدا تعالیٰ کے حضور لکھی جا چکی ہو وہ جانتی ہے کہ مرنے والا سپاہی اس کے کام آ گیا۔گویا جیتنے والی قوم کی مثال اُس اینٹ کی سی ہے جو عمارت پر لگائی جاتی ہے اور ہارنے