خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 460 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 460

خطبات محمود ۴۶۰ سال ۱۹۳۷ء خونریزیوں اور قتلوں کے واقعات میں بے تعلق ہی رہتے ہیں۔اس لئے ہم اسے پُر امن زمانہ کہتے ہیں۔اور فساد کا زمانہ وہ ہوتا ہے جب کوئی حکومت امن قائم کرنے والی نہ ہو، کوئی قانون نہ ہو ، جس کی مرضی ہو تلوار اُٹھا کر دوسرے کو قتل کر دے اور کوئی جھوٹے منہ بھی نہ پوچھے کہ تم نے ایسا کیوں کیا جیسے مکہ میں تھا۔یہاں جب پولیس کسی کی رعایت بھی کرتی ہے تو کم سے کم بے تعلقی کا مظاہرہ ضرور کرتی ہے۔یہ علیحدہ بات ہے کہ وہ مقدمہ کو کامیاب نہ ہونے دے۔جیسے آجکل ہم دیکھتے ہیں کہ جب کسی احمدی پر ظلم یا تعدی کرنے کا کوئی مقدمہ ہو تو اکثر مجرم بری ہو جاتے ہیں۔کبھی مجسٹریٹ کہتا ہے کہ پولیس کی غلطی تھی اور کبھی پولیس کہتی ہے کہ مجسٹریٹ نے غلطی کی مگر انصاف کرنے کی ایک نمائش ضرور ہوتی ہے۔یہ تو نہیں ہوتا کہ کوئی پوچھتا ہی نہیں۔اس سے بھی ظالم اور شریر کو ڈر اور خوف ضرور لگا رہتا ہے۔وہ سمجھتا ہے ممکن ہے مجسٹریٹ کے سامنے سچائی کھل جائے۔ممکن ہے اس دفعہ رعایت نہ کی جائے ممکن ہے پولیس کے بالا افسر ہی توجہ کریں۔اس لئے اسے ایک خوف ضرور لگا رہتا ہے۔مگر جہاں یہ نمائش بھی نہ ہو وہاں کوئی خوف نہیں ہوتا لوگ عَلَى الْإِعْلان اور دھڑلے سے ایسے کام کرتے ہیں اور کوئی پرواہ نہیں کرتے۔پھر جہاں نمائش ہو شریر کو یہ بھی خوف ہوتا ہے کہ زمانہ کے دور بدلتے رہتے ہیں مثلاً ہمارے ہی متعلق دیکھ لو۔بے شک اس وقت احرار اور دوسرے معاندوں کو حکومت کے بعض افسروں کی نگاہ میں وقار حاصل ہے اور وہ افسر تعصب کی وجہ سے ہر احمدی کی روایت کو جھوٹا سمجھتے یا کم سے کم اسے جھوٹا قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں، مگر کبھی اچھے افسروں کی کثرت آجاتی ہے جو انصاف کرتے ہیں۔بالعموم جہاں پولیس اور کی دوسرے افسروں کو کوئی خاص تعلق نہ ہو کوشش یہی کی جاتی ہے کہ انصاف ہو۔اس لئے ایسے واقعات کثرت اور تواتر سے نہیں ہوتے اور اس وجہ سے ہم اس زمانہ کو پُر امن زمانہ کہتے ہیں۔مگر جہاں نہ کوئی حکومت ہو، نہ قانون ہو، نہ پولیس ہو، کوئی قیام امن کی کوشش کرنے والا نہ ہو، اسے فساد کا علاقہ کہا جائے گا۔اور ایسے علاقے جہاں کوئی حکومت نہ ہو یا جب کسی علاقہ کی حکومت کسی جماعت کو اپنی رعایا ہونے کے حقوق سے عملاً یا قانونا محروم قرار دے دے وہاں قتل ، خونریزیاں ، فساد اور جنگیں بکثرت ہوتی ہیں اور لوگوں کو اس قسم کی خونریزیوں کی برداشت کی عادت ہو جاتی ہے۔لیکن جہاں ایسے واقعات بکثرت نہ ہوں وہاں ایسے واقعات پر لوگوں پر بڑی ہیبت طاری ہو جاتی ہے اور قربانی کرنے سے لوگ ڈرتے ہیں۔