خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 46 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 46

خطبات محمود ۵ ۴۶ र سال ۱۹۳۷ء فتح و نصرت جماعت احمدیہ کیلئے مقدر ہے فرموده ۲۹ جنوری ۱۹۳۷ء) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کو بڑھانا چاہتا ہے تو اس کے خیالات اور افکار کو بھی بڑھا دیتا ہے اور جب کسی قوم کو گھٹانا چاہتا ہے تو اس کے خیالات اور افکار کو بھی گرا دیتا ہے۔چنانچہ تمام قوموں کی حالت کو دیکھتے ہوئے ہم قطعی طور پر اس نتیجہ پر پہنچ جاتے ہیں کہ کسی قوم کے تنزل سے پہلے اس کے خیالات میں تنزل پیدا ہو جاتا ہے اور کسی قوم کی ترقی سے پہلے اس کے خیالات میں ترقی پیدا ہو جاتی ہے۔چھوٹی چھوٹی تو میں اور ذلیل تو میں معمولی معمولی باتوں پر تسلی پا جاتی ہیں مگر بڑھنے والی تو میں ہمیشہ اپنے حوصلوں کو بلند رکھا کرتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ یہاں ایک چوہڑا تھا جو اصطبل وغیرہ میں اور ہمارے گھر میں کام کرتا تھا۔فرماتے تھے ایک دفعہ بچپن میں ہم نے کھیلتے ہوئے ہمجولیوں سے دریافت کرنا شروع کیا کہ تمہاری کیا خواہش ہے؟ پھر اسی بچپن کی عمر کے لحاظ سے اس سے بھی ہم نے دریافت کیا کہ تمہاری کیا خواہش ہے اور کس چیز کو سب سے زیادہ تمہارا دل چاہتا ہے اس نے جواب دیا کہ کہ میرا دل اس بات کو چاہتا ہے کہ تھوڑا تھوڑا بخار چڑھا ہوا ہو، ہلکی ہلکی بارش ہو رہی ہو، سردی کا موسم ہو، میں لحاف اوڑھے چار پائی پر لیٹا ہوا ہوں اور دو تین سیر بھنے ہوئے چنے میرے سامنے رکھے ہوں اور میں انہیں ٹھونکتا جاؤں یعنی ایک ایک کر کے کھاتا جاؤں۔یہ تھی اُس کی زندگی کی سب سے بڑی