خطبات محمود (جلد 18) — Page 453
خطبات محمود ۴۵۳ سال ۱۹۳۷ء یہ سوال پیدا ہونے لگا کیونکہ آپ کی مدینہ میں تشریف لانے کی وجہ سے ان کی کئی امیدیں باطل ہو گئیں تھیں۔چنانچہ تاریخوں سے ثابت ہے کہ مدینہ میں عربوں کے دو قبیلے تھے اوس اور خزرج۔اور یہ ہمیشہ آپس میں لڑتے رہتے تھے اور قتل اور خونریزی کا بازار گرم رہتا۔جب انہوں نے دیکھا کہ اس لڑائی کے نتیجہ میں ہمارے قبائل کا رُعب مٹتا جا رہا ہے تو انہوں نے آپس میں صلح کی تجویز کی اور قرار پایا کہ ہم ایک دوسرے سے اتحاد کر لیں اور کسی ایک شخص کو اپنا بادشاہ بنا لیں چنانچہ اوس اور خزرج نے آپس میں صلح کر لی اور فیصلہ ہوا کہ عبداللہ بن ابی بن سلول کو مدینہ کا بادشاہ بنا دیا جائے۔اس فیصلہ کے بعد انہوں نے تیاری بھی شروع کر دی اور عبداللہ بن ابی بن سلول کے لئے تاج بنے کا حکم بھی دے دیا گیا۔اتنے میں مدینہ کے کچھ حاجی مکہ سے واپس آئے اور انہوں نے بیان کیا کہ آخری زمانہ کا نبی مدینہ میں ظاہر ہو گیا ؟ ہے اور ہم اس کی بیعت کر آئے ہیں۔اس پر رسول کریم اللہ کے دعوئی کے متعلق چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں۔اور چند دنوں کے بعد بعض اور لوگوں نے بھی مکہ جا کر رسول کریم ﷺ کی بیعت کر لی۔پھر انہوں نے رسول کریمہ سے درخواست کی کہ آپ ہماری تربیت اور تبلیغ کے لئے کوئی معلم ہمارے ساتھ بھیجیں۔چنانچہ رسول کریم ﷺ نے ایک صحابی کو مبلغ بنا کر بھیجا اور مدینہ کے بہت سے لوگ اسلام میں داخل ہو گئے۔انہی دنوں میں چونکہ مکہ میں رسول کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کو بہت سی تکالیف پہنچائیں جا رہی تھیں اس لئے اہل مدینہ نے آپ سے درخواست کی کہ آپ مدینہ میں تشریف لے آئیں۔چنانچہ رسول کریم ﷺ بہت سے صحابہ سمیت مدینہ ہجرت کر کے آگئے۔اور عبد اللہ بن ابی بن سلول کے لئے جو تاج تیار کر وایا جار ہا تھا وہ دھرا کا دھرا رہ گیا کیونکہ جب انہیں دونوں جہانوں کا بادشاہ مل گیا تو انہیں کسی اور بادشاہ کی کیا ضرورت تھی۔عبداللہ بن ابی ابن سلول نے جب یہ دیکھا کہ اُس کی بادشاہت کے تمام امکانات جاتے رہے ہیں تو اسے سخت غصہ آیا۔اور گو وہ بظاہر مسلمانوں میں مل گیا مگر ہمیشہ اسلام رخنے ڈالتا رہتا تھا۔اور چونکہ اب وہ اور کچھ نہیں کر سکتا تھا اس لئے اُس کے دل میں اگر کوئی خواہش پیدا ہو سکتی کی تھی تو یہی کہ محمد ﷺ فوت ہوں تو میں مدینہ کا بادشاہ بنوں لیکن مسلمانوں میں جو نبی بادشاہت قائم ہوئی اور ایک نیا نظام انہوں نے دیکھا تو انہوں نے رسول کریم ﷺ سے مختلف سوالات کرنے شروع کر دیئے کی کہ اسلامی حکومت کا کیا طریق ہے۔آپ کے بعد اسلام کا کیا حال ہوگا اور اس بارہ میں مسلمانوں کو کیا کرنا چاہئے۔عبداللہ بن ابی بن سلول نے جب یہ حالت دیکھی تو اسے خوف پیدا ہونے لگا کہ اب اسلام