خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 44 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 44

۴۴ سال ۱۹۳۷ء خطبات محمود کرو تو تمہیں پتہ لگ جائے کہ کتنا کام کرنا پڑتا ہے۔کام کا ہر ایک کو پتہ لگ جاتا ہے کیونکہ اس میں عادت کا کوئی سوال نہیں ہوتا۔ایک امیر شخص یہ تو کہہ سکتا ہے کہ أَمَّا بِنِعْمَتِ رَبِّكَ فَحَدِتْ میں مجھے اللہ تعالیٰ نے اجازت دی ہے کہ زیادہ کپڑے پہن لوں۔مگر خدا نے یہ کہاں کہا ہے کہ وقت ضائع کرو۔وقت ضائع کرنے کیلئے کوئی عذر نہیں پیش کیا جا سکتا۔سوائے اس کے کہ کوئی شخص کہے مجھے اس کی عادت پڑ گئی ہے۔مگر اس طرح تو کوئی یہ بھی کہ سکتا ہے کہ خدا اور رسول کے انکار کی مجھے عادت ہو گئی ہے۔میں جماعت کو پھر توجہ دلاتا ہوں کہ تحریک جدید تمہیں اس وقت تک کامیاب نہیں کر سکتی جب تک رات دن ایک کر کے کام نہ کرو۔اپنی راتوں اور دنوں پر قبضہ نہ کر لو اور ایسی عادت ڈال لو کہ جس کام کو اختیار کر وایسی طرح کرو جس طرح ہمارے ملک میں کہتے ہیں تخت یا تختہ۔جب تک یہ روح پیدا نہ کی ہو، جب تک کوئی شخص اپنے آپ کو فنا کرنے کیلئے تیار نہ ہو، اس وقت تک کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی۔تم لاکھ ایڑیاں رگڑ و مگر اس وقت تک کامیابی حاصل نہیں کر سکتے۔جب تک اس طریق پر کام نہ کر وجو اللہ تعالیٰ نے کامیاب ہونے کیلئے مقرر کیا ہے۔اس وقت بورڈ نگ تحریک جدید کے لڑکے میرے سامنے بیٹھے ہیں۔میں ان کو بھی اور ان کے استادوں کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ اس بورڈنگ کے قیام سے میری غرض یہی ہے کہ نو جوانوں میں محنت کی عادت پیدا ہو۔تم بارہ گھنٹے بھی سو سکتے ہو مگر پانچ ، چھ گھنٹے سو کر بھی گزارہ کر سکتے ہو۔سالہا سال تک جب میری صحت اچھی تھی باوجود یکہ حضرت خلیفہ المسح الاول مجھے سختی سے منع ا کیا کرتے تھے، میں پانچ ساڑھے پانچ گھنٹے سے زیادہ نہیں سویا کرتا تھا۔کئی دفعہ حضرت خلیفہ المسیح الاول فرمایا کرتے تھے کہ طبی نقطہ نگاہ سے میرا مشورہ ہے کہ سات گھنٹے سے کم نیند کی صورت میں آپ کی صحت ٹھیک نہیں رہ سکتی۔مگر میں پانچ ساڑھے پانچ گھنٹہ سے زیادہ نہیں سویا کرتا تھا۔اب تو صحت اس قدر برداشت نہیں کر سکتی۔مگر اب بھی سوائے بیماری کے سات گھنٹے میں کبھی نہیں سو یا۔بیماری میں تو بعض وقت آدمی دس گھنٹے بھی لیٹا رہتا ہے مگر ایسی حالت تو سال میں دو چار دفعہ ہی ہوتی ہے۔عام حالات میں میں اب بھی چھ پونے چھ گھنٹے سوتا ہوں۔گوسخت کام کے وقت اب بھی بعض دفعہ تین چار گھنٹوں پر اکتفاء کرنی پڑتی ہے۔