خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 34 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 34

خطبات محمود ۳۴ سال ۱۹۳۷ء قادیان میں اب بعض ایسے کارخانے گھل گئے ہیں جن میں یتیموں اور غربیوں کو کام کرنا سکھلایا جاتا ہے۔اس لئے یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ قادیان کے لوگ بے دین ہو گئے۔گویا جو بیواؤں کو کھو کا رکھیں ، جو قتیموں کو ٹھو کا ماریں، جو غریبوں کو ٹھو کا ماریں وہ تو دین دار مگر جو ان کی آسائش اور سہولت کیلئے کوئی کام نکالیں وہ بے ایمان اور اشاعت اسلام کے کام سے منحرف۔مگر میں مولوی محمد علی صاحب سے یہ کہہ دینا چاہتا ہوں کہ ابھی زیادہ دن نہیں گزریں گے کہ وہ خود اسی قسم کے کام کرنے پر مجبور ہوں گے۔یہ ایام خواہ ان کی زندگی میں آئیں یا ان کی اولادوں کی زندگی میں بہر حال زیادہ عرصہ نہیں گزرے گا کہ وہ خود اسی قسم کے کام کریں گے جس قسم کے کاموں پر وہ آج ہم پر اعتراض کر رہے ہیں۔وہ بیشک میرا یہ خطبہ اپنے اخبار میں چھاپ دیں تا آئندہ نسلوں کیلئے سند رہے کہ میں نے یہ دعوی کیا ہے کی کہ ایک دن ان کی انجمن یہی کام کرنے پر مجبور ہوگی۔اگر یہ بات درست ثابت ہوئی تو ان کی نامنہمی ان کی نسلوں پر ثابت ہوگی اور اگر درست نہ نکلی تو میرا جھوٹ ثابت ہوگا۔ایک دوسری صورت بھی میں ان کے سامنے پیش کرتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ اگر وہ یہ اعتراض دیانت داری سے کر رہے ہیں تو وہ اپنی طرف سے چوکھٹوں میں یہ الفاظ لکھ کر شائع کر دیں کہ اگر کبھی ہماری جماعت نے صنعتی مدر سے جاری کئے یا بیواؤں اور یتیموں کی خبر گیری کی اور انہیں کوئی ہنر اور پیشہ و سکھانے کے لئے کوشش کی تو یہ سخت بے دینی ہوگی پھر وہ خود بخود دیکھ لیں گے کہ اگلی نسلیں ان پر لعنتیں کرتی ہیں یا نہیں کرتیں۔اور اگر وہ کہیں کہ اگر ایسی ہی بات ہے تو پھر اور بھی بیسیوں کام ہیں وہ تم کیوں کی نہیں کرتے یا اس سے پہلے کیوں ایسے کام جاری نہیں کئے تھے ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہر کام کا وقت ہوتا ہے جب تک ہمارے آدمی تھوڑے تھے اور اُن کو کام پر لگانے کیلئے ایسے اخراجات اسراف میں داخل تھے ہم نے یہ کام شروع نہیں کئے اور جب ہماری تعداد زیادہ ہوگئی اور بیکاری بڑھ گئی اور سکھانے کا خرچ اسراف نہ رہا، ہم نے یہ کام جاری کر دئیے۔اب اگر ہمارے پاس مزید طاقت ہو تو ہم یقیناً اور پیشے بھی سکھانے کیلئے جماعت میں کارخانے جاری کر دیں گے۔بلکہ اگر ہمارے اندر طاقت ہو تو میں تو اپنی جماعت کے افراد سے یہی کہوں گا کہ ہو سکے تو ہوائی جہاز بنانے سیکھو، جہاز بنانے سیکھو، کشتیاں بنانی سیکھو اور ان کے ذریعہ اگر غریبوں اور یتیموں کی امداد کر سکتے ہو تو کرو اور بیکاروں کو کام پر لگاؤ۔کام کرنا انا بے دینی نہیں دین چھوڑ کر کام کرنا بے دینی ہوتا ہے یا اپنی آمد کو عیاشی پر خرچ کرنا بے دینی ہوتا ہے ورنہ