خطبات محمود (جلد 18) — Page 283
خطبات محمود ۲۸۳ سال ۱۹۳۷ء بیٹھنے کو ہوتا تھا تو اُس نے میرے دل کو سہارا دیا ہے ورنہ مجھ پر ہزاروں گھڑیاں آئی ہیں کہ موت مجھے حیات سے زیادہ عزیز تھی اور قبر کا کونہ گھر کے کمروں سے مجھے زیادہ پیارا تھا۔میں باتوں باتوں میں دور نکل گیا۔میں ذکر یہ کر رہا تھا کہ حسان اور مسطح بھی اپنا نقصان کر کے کی کھڑے ہوئے تھے۔ان کی روٹیاں اور کپڑے، ان کے مکان ، ان کی عزتیں ، غرضیکہ ہر چیز خطرہ میں نے تھی۔تو کیا اس سے یہ سمجھ لیا جائے کہ حضرت عائشہ پر ان کا الزام صحیح تھا؟ اگر یہ دلیل کوئی قیمت رکھتی ہے کہ انہوں نے اپنا نقصان کر کے یہ فتنہ شروع کیا ہے اس لئے وہ جو کہتے ہیں صحیح ہے تو میں کہتا ہوں کہ پہلوں نے بھی نقصان اُٹھا کر ہی ایسا کیا تھا مگر ان کے متعلق قرآن کریم کا صاف حکم ہے کہ وہ کذاب تھے۔پس ان لوگوں کو کونسی زائد پوزیشن حاصل ہے کہ ان کو کذاب نہ کہا جائے۔پھر یہ بھی درست نہیں کہ مصری صاحب نے کوئی قربانی کی ہے۔انہوں نے پہلا خط فخر دین صاحب کے اخراج کے بعد لکھا ہے۔اگر وہ کسی قربانی کیلئے تیار تھے تو چاہئے تھا کہ پہلے لکھتے۔لیکن جب دیکھا کہ پارٹی ٹوٹنے لگی ہے تو خط میں مجھے دھمکی دی کہ فخر دین صاحب کو معافی دے دو ورنہ پر دے فاش ہو جائیں گے۔وہ سمجھتے تھے کہ میں ڈر جاؤں گا اور معاف کر دوں گا۔تو اس خط سے ان کا مقصد صرف یہ تھا کہ ڈرا کر فخر دین صاحب کیلئے معافی حاصل کی جائے۔یہ بھی کوئی قربانی ہے کہ کوئی شخص کسی سے آکر کہے کہ یہ کام کردو ورنہ تمہارا گھر لوٹا جائے گا۔پہلے خط میں انہوں نے لکھا ہے کہ فخر دین صاحب کو معاف کر دیں ورنہ بڑی بدنامی ہوگی۔تو یہ خط کسی قربانی کیلئے نہیں بلکہ فائدہ اُٹھانے کیلئے لکھا گیا ہے۔یہ اس غرض سے لکھا گیا تھا کہ ان کی کا جو دوست جماعت سے باہر کر دیا گیا ہے اُسے پھر شامل کر لیا جائے۔پس یہ خط فائدہ اٹھانے کیلئے لکھا گیا تھا نہ کہ کسی قربانی کیلئے۔اگر یہ فخر دین صاحب کی خاطر نہیں لکھا گیا تھا تو جب وہ کہتے ہیں ان باتوں کا دو سال سے مجھے علم تھا تو فخر دین صاحب کے اخراج کا انتظار کیوں کرتے رہے۔اس مرحلہ پر خط لکھنا صاف ظاہر کرتا ہے کہ ان کے مزعومہ اعتراضات کا اظہار خود الزامات کا باعث نہ تھا بلکہ میاں فخر دینی صاحب کو بچانے کیلئے تھا۔مصری صاحب بتا ئیں تو سہی کہ فخر دین صاحب کے اخراج کے بعد کونسے ایسے نئے حالات پیدا ہو گئے تھے جن کی وجہ سے وہ مجبور ہو گئے کہ وہ ان الزامات کا اظہار کریں۔اگر تو کوئی نئے حالات پیدا ہو گئے ہوتے تو ہم سمجھ لیتے کہ یہ خط ان حالات کی وجہ سے لکھا گیا لیکن ایسا نہیں ہے۔پس واقعہ یہی ہے کہ اگر فخر دین صاحب جماعت میں رہتے تو با وجود مصری صاحب کو میرے مزعومہ عیور